مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے آج اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج طویل عرصے سے سعودی افواج کے ساتھ مل کر مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ معاہدہ بھی انہی انتظامات کا تسلسل ہے اور اسے حتمی شکل دینے سے پہلے کئی سال تک اس پر بات چیت ہوتی رہی۔

وزیر اعظم نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے انتھک کوششوں پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔

شہباز شریف نے ہنگو اور سوات سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خوارج دہشت گردوں کا دن رات خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں آباد کشمیریوں کے لیے مخصوص نشستوں سمیت میرپور اور مظفرآباد میں اب تک ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ( ن) نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔

شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے حق میں ووٹ دینے پر آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ محمد نواز شریف کی قیادت میں آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا نیا سفر شروع ہوگا۔

آزاد کشمیر میں حالیہ بدامنی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر صورتحال خراب کرنے والے بیرونی عناصر کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر بات چیت کے لیے مظفر آباد میں کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جو لوگ مخصوص نشستوں میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، وہ انتخابات ہونے دیں اور آئین و قانون کے تحت حل کے لیے نئی اسمبلی کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں۔

آنے والے یوم آزادی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ قوم چودہ اگست کو یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

Exit mobile version