پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے جاری انتخابات سے متعلق بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیانات کو بے بنیاد، حقائق کے منافی اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے بھارت نے جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور بھارت کے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات آئینی اور قانونی فریم ورک کے مطابق پرامن، شفاف اور منظم انداز میں منعقد ہو رہے ہیں، جو آزاد کشمیر کے عوام کی جمہوری امنگوں اور سیاسی خواہشات کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کا نہ قانونی جواز ہے اور نہ ہی اخلاقی حیثیت، جبکہ وہ خود بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بنیادی سیاسی حقوق اور جمہوری آزادیوں سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ کسی بھی قسم کا پروپیگنڈا یا گمراہ کن معلومات اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتیں کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے ذریعے ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے حالیہ بیانات کا مقصد انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔
ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں اقوام متحدہ کے نائب ترجمان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال، کے پرامن حل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مل کر مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے عمان کے کشیدگی میں کمی اور پرامن بقائے باہمی کے لیے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے تمام مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
