نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
یہ مطالبہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کیا۔
خط میں بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے من مانی گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، تشدد، اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادی پر پابندیوں، اور سخت قوانین کے مسلسل نفاذ کو اجاگر کیا گیا ہے۔
خط میں کشمیری سیاسی رہنماؤں، جن میں شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی شامل ہیں، کے علاوہ صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی مسلسل گرفتاریوں اور مبینہ ہراسانی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کشمیری عوام کی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سولہ سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
نائب وزیراعظم نے خط میں خبردار کیا کہ بھارت کے اقدامات خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا جارحانہ رویہ، اشتعال انگیز بیانات، مقبوضہ جموں و کشمیر میں سات سے نو لاکھ کے درمیان سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔
