پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ریاستِ پاکستان بلوچستان کے عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے اور صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چند بااثر افراد کو خوش کرنے کے بجائے عوام کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف پہاڑوں اور میدانی علاقوں میں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر شہری کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں، جبکہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والوں کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہزاروں آپریشنز کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ بلوچستان پولیس کے تعاون سے جاری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے 300 سے زائد بھارتی ویب سائٹس سرگرم ہیں اور صوبے سے متعلق 54 فیصد پروپیگنڈا بھارت سے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران اربوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان اور 18 ارب روپے مالیت کی منشیات برآمد کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں کے اسمگلنگ نیٹ ورکس سے گہرے روابط ہیں، اسی لیے ایسے عناصر ان کارروائیوں سے پریشان ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں منگی ڈیم، کچھی کینال اور پاکستان ایکسپریس وے نمایاں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 100 ڈیمز منصوبے کے تحت 52 ڈیم مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ صوبے میں سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں پر 70 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان میں ہر ماہ 16 نئے تعلیمی ادارے اور 2 صحت کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ جھینگا فارمنگ کے فروغ کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جبکہ بلوچستان گرین انیشیٹو کے تحت کسانوں کو قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چاغی سے کراچی تک معدنی راہداری کے تحفظ کے لیے ایف سی ویسٹ قائم کی جا رہی ہے، جبکہ بلوچستان پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید تربیت، جدید آلات اور فرانزک لیبارٹریاں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال ملک بھر میں ہونے والے 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں سے 31 ہزار سے زائد بلوچستان میں کیے گئے۔ اس دوران صوبے میں 3 ہزار 145 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے جبکہ 2 ہزار 84 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 800 سے زائد پاکستانی شہید ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران 28 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے زیادہ تر حملہ آور افغان شہری تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ریاست دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو قانون اور آئین کے مطابق ریاست کی رٹ تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امن و استحکام کے لیے اچھی طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سمیت ایسے معاملات کا فیصلہ آئین اور عوامی خواہشات کے مطابق سیاسی قیادت کو کرنا چاہیے۔
آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق حل ہونے چاہئیں اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
