پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور آئندہ بھی اپنا کردار جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام ممکنہ کوششیں کر رہا ہے تاکہ فریقین کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) کی جانب واپس لایا جا سکے اور اس کے جذبے اور 22 جون کے پاکستان-قطر مشترکہ اعلامیے کی روشنی میں تمام تحفظات دور کیے جا سکیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اپنے عزم پر مکمل عمل کریں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے جوہری سلامتی پروگرام سے متعلق دستاویزی فلم کے بارے میں سوال پر ترجمان نے اسے گمراہ کن اور جانبدار ذرائع پر مبنی قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دستاویزی فلم پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخ، ارتقا اور اس کے پس منظر کو یا تو سمجھنے میں گہری ناکامی کی عکاسی کرتی ہے یا پھر حقائق کو نظر انداز کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، جوہری تحفظ و سلامتی کے جامع تکنیکی، قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار اور مجموعی جوہری پروگرام پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ انتظامات اعلیٰ ترین عالمی معیار کے مطابق ہیں اور آزاد بین الاقوامی ماہرین بھی ان کا مسلسل اعتراف کرتے رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی روکنے کا فیصلہ معلومات کو دبانے کے اس کے پہلے سے قائم طرزِ عمل کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، بالخصوص نمائندہ میڈیا اداروں کو بھارتی حکومت کی جانب سے میڈیا پر عائد پابندیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔
