کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے رجسٹرڈ ٹریڈ مارک ’’کولکوریکس‘‘ سے مشابہ نام اور پیکنگ استعمال کرنے پر سات ویٹرنری ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں پر مجموعی طور پرپچپن لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ یہ عمل کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کے تحت گمراہ کن مارکیٹنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ کارروائی شاہوجی ہربل فارما کی شکایت پر کی گئی، جس کے مطابق وہ 1999 سے کولکوریکس کے نام سے ویٹرنری ہربل دوا فروخت کر رہی ہے، جبکہ اس کا ٹریڈ مارک 2017 میں انیلیکچول پراپرٹی آرکنائزیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہوا۔
کمیشن نے قرار دیا کہ مختلف کمپنیوں نے کولکوریکس سے انتہائی مشابہ برانڈ نام، رنگ، ڈیزائن اور پیکنگ اختیار کی، جس سے عام خریدار آسانی سے یہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ مصنوعات اصل کولکوریکس سے وابستہ ہیں۔
کمیشن نے اٹزان نیچرل پروڈکٹس، مسلم ہربل اینڈ نیوٹروسیوٹیکلز، ایس ایشیا اورینٹل فارما ،اور ازفار نیوٹریسیوٹیکلز انڈسٹریز پر دس دس لاکھ روپے جبکہ ہرب بیک نیوٹراسیوٹیکلز، وائٹل مارک لیبارٹریز (پراوئیویٹ)لیمٹڈ اور ہائی ویٹ نیوٹراسیوٹیکلز فارما پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ بلیسکو انٹرنیشنل کے خلاف ناکافی شواہد کی بنیاد پر کارروائی ختم کر دی گئی۔
کمیشن نے واضح کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے کسی دوا کی منظوری، کسی دوسرے ادارے کے رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی۔ کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں قرار دیا کہ صرف نام میں معمولی تبدیلی یا پیکنگ میں ردوبدل سے نیا ٹریڈ مارک وجود میں نہیں آتا اگر مجموعی تاثر گمراہ کن طور پر مشابہ ہو۔
کمیشن نے تمام متعلقہ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متنازع ٹریڈ مارک اور تشہیری مواد کا استعمال فوری طور پر بند کریں، تیس روز میں تعمیل رپورٹ جمع کرائیں، بصورت دیگر ایک لاکھ روپے یومیہ اضافی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
