28 پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے اعلیٰ نمائندے جی ایس ایم اے ڈیجیٹل نیشن پاکستان وزارتی راؤنڈ ٹیبل میں شریک ہوئے، جہاں پاکستان میں تیزی سے فروغ پاتے ڈیجیٹل شعبے کی رفتار کو مزید مستحکم کرنے اور ڈیجیٹل پاکستان 2030 کے اہداف کے حصول کو تیز کرنے کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ راؤنڈ ٹیبل ان چند اہم فورمز میں شامل تھا جہاں وفاقی وزارتوں، چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان کے نمائندوں، قومی ریگولیٹری ادارے، موبائل انڈسٹری کے رہنماؤں اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل سے متعلق مشترکہ ایجنڈے پر ایک ساتھ غور کیا۔ شرکاء کی یہ وسیع نمائندگی اس بڑھتے ہوئے شعور کی عکاس تھی کہ ڈیجیٹل پاکستان 2030 کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وفاقی حکومت، صوبوں، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔
ان مباحثوں کو مؤثر بنانے کے لیے جی ایس ایم اے نے "ڈیجیٹل پاکستان 2030پائیدار سرمایہ کاری، اعتماد اور جامع ترقی کے لیے رفتار کی تعمیر” کے عنوان سے ایک نئی ڈسکشن پیپر بھی جاری کیا جس میں پاکستان کی حالیہ پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے پانچ اہم ترجیحات کی نشاندہی کی گئی تاکہ موجودہ رفتار کو طویل المدتی معاشی اور سماجی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
اس ڈسکشن پیپر میں اسپیکٹرم پالیسی، موبائل انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال، خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت، ڈیجیٹل اعتماد، سائبر سیکیورٹی اور حکومت و صنعت کے درمیان مضبوط تعاون کے شعبوں میں پاکستان کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان اقدامات نے مستقبل کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، تاہم اس رفتار کو برقرار رکھنے، سرمایہ کاری کے لیے پائیدار اور قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنے، محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور پورے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہوگا۔
جی ایس ایم اے کے ہیڈ آف ایشیا پیسیفک جولین گورمن نے کہا”پاکستان نے ڈیجیٹل ترقی کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کر لی ہیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی پیش رفت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ آج کے راؤنڈ ٹیبل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے حکومت، صنعت اور ترقیاتی اداروں کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تاکہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے درکار عملی اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ ڈیجیٹل پاکستان 2030 کے اہداف کا حصول حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون، مشترکہ ترجیحات اور پورے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں مربوط عمل درآمد پر منحصر ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا”ہماری یہ ڈسکشن پیپر انہی گفتگوؤں میں معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، تاکہ ایک مؤثر فریم ورک مہیا کیا جا سکے اور ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں اجتماعی اقدامات سب سے زیادہ مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”
ڈیجیٹل پاکستان 2030 کے لیے ترجیحات
جی ایس ایم اے کی ڈسکشن پیپر میں پاکستان کی موجودہ ڈیجیٹل رفتار کو مزید مستحکم کرنے اور ڈیجیٹل پاکستان 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے پانچ اسٹریٹجک ترجیحات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں حالیہ اسپیکٹرم اصلاحات کو بنیاد بنا کر سرمایہ کاری کے لیے پائیدار اور قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنا، طویل المدتی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، کم لاگت، ڈیجیٹل مہارتوں، دیہی علاقوں میں بہتر رابطوں اور خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت میں مزید پیش رفت کے ذریعے ڈیجیٹل شمولیت کو تیز کرنا شامل ہے۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی معیشت کی تیاری کے لیے 5G کی تیاری، فائبر نیٹ ورک، ڈیٹا سینٹرز، توانائی کے مضبوط نظام اور مستقبل کی اسپیکٹرم منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل شناخت، بچوں کی آن لائن حفاظت، آن لائن فراڈ کے خلاف مشترکہ اقدامات اور وسیع تر ڈیجیٹل اعتماد کے نظام کو مضبوط بنا کر محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ان تمام ترجیحات کی کامیابی کے لیے حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان قومی سطح پر مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ مشترکہ ترجیحات پر عمل درآمد بہتر بنایا جا سکے اور نتائج کے حصول کی رفتار تیز ہو۔
رپورٹ میں ڈیجیٹل پاکستان 2030 ایکشن ایجنڈا بھی پیش کیا گیا، جو پانچ مشترکہ اقدامات پر مشتمل ہے: سرمایہ کاری کے لیے پائیدار ماحول کی تشکیل، ڈیجیٹل شمولیت کو تیز کرنا، قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر، پاکستان کو مصنوعی ذہانت (AI) کی معیشت کے لیے تیار کرنا، اور قومی سطح پر ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا۔ یہ اقدامات حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم کرتے ہیں تاکہ موجودہ پیش رفت کو قابلِ پیمائش معاشی اور سماجی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
وزارتی راؤنڈ ٹیبل کا اختتام ایک مشترکہ "کال ٹو ایکشن” پر ہوا جس کے ذریعے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مضبوط تعاون، مسلسل سرمایہ کاری اور مربوط عمل درآمد کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھا جائے گا۔
