سیریز کے فیصلہ کن میچ میں جیت کے لیے بھرپور کوشش کریں گے، سدرہ امین

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی تجربہ کار بلے باز سدرہ امین نے کہا ہے کہ ایشیائی وکٹیں عموماً سست ہوتی ہیں، تاہم ہمبنٹوٹا کی وکٹ نسبتاً بہتر تھی، جہاں سری لنکن باؤلرز نے ابتدا میں تیز گیندوں کا استعمال کیا، لیکن بعد میں سلو باؤلنگ کی حکمت عملی اپنائی جس سے بیٹنگ کچھ مشکل ضرور ہوئی۔

دوسرے ون ڈے میں ناقابل شکست سنچری بنانے والی سدرہ امین نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل شراکت داریوں نے ٹیم کو ایک اچھا مجموعہ بنانے میں مدد دی۔

انہوں نے کہا، "ہماری کوشش یہی تھی کہ رنز کا سلسلہ نہ رکے اور جہاں باؤنڈری کا موقع ملے، وہاں اس سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اسکور بورڈ مسلسل چلتا رہے۔”

اپنی بیٹنگ حکمت عملی کے بارے میں سدرہ امین نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اپنی اننگز کو مرحلہ وار آگے بڑھاتی ہیں اور ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے بھی یہی پیغام ملتا ہے کہ وہ زیادہ دیر کریز پر رہیں تاکہ دوسرے بلے باز ان کے اردگرد اعتماد کے ساتھ کھیل سکیں۔

انہوں نے کہا، "میں ایک بیٹر ہوں اور میری ذمہ داری ہے کہ لمبی اننگز کھیلوں تاکہ ٹیم کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکوں۔”

سدرہ امین نے عائشہ ظفر کی بیٹنگ کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھا کھیل رہی تھیں، گیند ان کے بیٹ پر اچھی طرح آ رہی تھی، اسی لیے وہ زیادہ سے زیادہ سنگلز لے کر عائشہ کو اسٹرائیک دیتی رہیں۔

پاکستان کی باؤلنگ پر بات کرتے ہوئے سدرہ امین نے کہا کہ ان کے خیال میں ٹیم نے آف سائیڈ پر نسبتاً زیادہ باؤلنگ کی، تاہم اگلے میچ میں منصوبے کے مطابق بہتر باؤلنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیریز کا آخری میچ فیصلہ کن ہوگا۔ "سری لنکا ایک اچھی ٹیم ہے، لیکن ہم پوری جان لگا کر میدان میں اتریں گے اور سیریز جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔”

Exit mobile version