فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کیا۔ اس کورس میں تینوں مسلح افواج کے افسران شریک تھے۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ تزویراتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی پیشہ ورانہ مہارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے مستقبل کی عسکری و سول قیادت کی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ وہ ہائبرڈ، روایتی اور ذیلی روایتی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی آپریشنل حکمتِ عملی اور صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ مسلح افواج دشمن خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے پراکسی عناصر اور نیٹ ورکس کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی اور انہیں پاکستان کی داخلی سلامتی اور معاشی خوشحالی کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کو ریاست اپنی پوری طاقت سے کچل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی مکمل حمایت سے مسلح افواج دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ جنگیں میڈیا کی بیان بازی یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے ذریعے جیتی جاتی ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے پاکستان کی تجربہ کار اور پیشہ ور مسلح افواج کی صلاحیتوں، بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فارغ التحصیل افسران پر زور دیا کہ وہ دیانت داری، بے لوث خدمت اور وطن سے غیر متزلزل وابستگی کی اعلیٰ اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
اس سے قبل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی نے کیا۔
