وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے تحت پاکستان کا آبی حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور یہ ملک کی زندگی کی علامت (لائف لائن) ہے، جس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی ناکام کوشش کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی جواز۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام سے اسے عالمی سطح پر شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منظور کردہ "ون واٹر، ون وژن” (One Water–One Vision) کے اصول کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی، سفارتی اور قومی سطح کے اقدامات جاری رکھے گا۔
