پاسپورٹ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا فیصلہ، ای پاسپورٹ کا نفاذ تیز کرنے کی ہدایت

وفاقی حکومت نے پاسپورٹ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد عوام کو جدید، محفوظ اور سہل سفری دستاویزات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں اصولی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں پاسپورٹوں کے اجرا کا نظام مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پریمیم سروسز سے استفادہ کرنے والے شہریوں سے ان خدمات پر آنے والے اخراجات کے مطابق فیس وصول کی جائے گی۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ آئندہ ماہ کی پہلی تاریخ سے تمام پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کو پاک آئی ڈی (PakID) ایپ پر منتقل کر دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ای پاسپورٹ نظام پر مکمل منتقلی سے پاسپورٹ کے اجرا میں جعلسازی اور دھوکہ دہی کے امکانات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ساتھ مشاورت سے بزنس پاسپورٹ پالیسی جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے اندر اور بیرون ملک پاسپورٹ کی گھروں تک ترسیل کے منصوبے پر ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے وزیر داخلہ کو پاسپورٹ نظام اور مجوزہ اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

Exit mobile version