پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر تنازع کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پیش کیے جانے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی رپورٹ نے فلسطین اور جموں و کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یقین ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا قیام سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ عالمی برادری کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
