گرین پاکستان انیشی ایٹو کے سیاحت کے شعبے کی بہتری کے لیے اہم اقدامات

گرین پاکستان انیشی ایٹو (GPI) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران سیاحت کے شعبے کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

اس سلسلے میں صرف اٹھارہ ماہ کے مختصر عرصے میں ملک بھر کے اٹھہتر سیاحتی مقامات سے متعلق معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ سترہ میں سے پندرہ ہوٹلوں اور تفریحی سہولیات کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

"سلام پاکستان” مہم کے ذریعے پاکستان کے متنوع، دلکش اور قدرتی حسن سے مالا مال سیاحتی مقامات کو عالمی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے۔

سال 2024 سے پائیدار سیاحت فورم (Sustainable Tourism Forum) کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی سیاحوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ویزا پالیسی میں بھی متعدد آسانیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جس سے غیر ملکی سیاحوں کی پاکستان آمد میں اضافہ متوقع ہے۔

گزشتہ سال امریکی نشریاتی ادارے CNN نے Gilgit-Baltistan کو دنیا کے پچیس بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کیا، جسے پاکستان کی سیاحتی صنعت کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دس لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح پاکستان آئے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں آٹھ سو بیس فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ سیاحت کے شعبے میں حکومتی اقدامات، بہتر سکیورٹی صورتحال، بین الاقوامی تشہیر اور سرمایہ کاری کے فروغ کا نتیجہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت جاری منصوبوں کا مقصد پاکستان کو ایک نمایاں عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کرانا اور ملکی معیشت میں سیاحت کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

Exit mobile version