تعلیم صرف کتابوں، نصاب اور امتحانات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جو طلبہ کی ذہنی، اخلاقی، تخلیقی اور سماجی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں منعقد ہونے والی تقریبات، سالانہ فنکشنز اور ہم نصابی سرگرمیاں اسی مقصد کے حصول کا بہترین ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی سرگرمیاں طلبہ میں اعتماد، نظم و ضبط، قائدانہ صلاحیت اور اجتماعی کام کرنے کا شعور پیدا کرتی ہیں۔
حالیہ دنوں گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول سدھا میں منعقد ہونے والا سالانہ گرینڈ فنکشن نہ صرف ایک یادگار تقریب ثابت ہوا بلکہ اس نے تعلیمی حلقوں میں مثبت اثرات بھی چھوڑے۔ اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر ڈپٹی ڈی ای او ظہیر عباس بھٹی کی جانب سے پی ای ٹی حافظ فہیم الرحمان کو تعریفی خط دیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت، لگن اور خلوص ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ حافظ فہیم الرحمان ، معروف ہردلعزیز سماجی شخصیت سیٹھ سلیم الرحمان کے صاحبزادے ہیں ۔ وہ ایک عرصے سے اپنے فرائض منصبی نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہے ہیں جس کی وجہ سے عوامی ،سماجی اور تعلیمی حلقوں میں نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔ یاد رہے کہ پی ای ٹی حافظ فہیم الرحمان اور گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول سدھا کے ٹیچر محمد سفیان کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ادارہ ہذا نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور آج اس سکول کو نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے ۔ جس پر سکول ہذا کے ہیڈ ماسٹر سمیت جملہ ٹیچنگ سٹاف اور اہلیان علاقہ دلی مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
پی ای ٹی حافظ فہیم الرحمان کو عطا کئے جانے والے تعریفی خط میں فنکشن کے بہترین انتظامات، شاندار نظم و ضبط اور مثالی ٹیم ورک کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ سکول انتظامیہ اور اساتذہ نے محدود وسائل کے باوجود ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا جس نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ ایسی کامیاب تقریبات دراصل اساتذہ کی پیشہ ورانہ وابستگی اور ادارے سے محبت کا عملی اظہار ہوتی ہیں۔
پی ای ٹی حافظ فہیم الرحمان کی خدمات کو سراہتے ہوئے عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ معاشرے میں مثبت کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہ صرف انفرادی سطح پر اعتماد بڑھاتی ہے بلکہ دوسرے افراد کیلئے بھی ایک مثال قائم کرتی ہے۔ جب کسی استاد یا منتظم کی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے تعلیمی ماحول پر مرتب ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو صرف تدریس تک محدود رکھنے کے بجائے کردار سازی، تخلیقی سوچ اور عملی تربیت کے مراکز بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سالانہ فنکشنز اور دیگر سرگرمیاں طلبہ میں چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتی اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کرتی ہیں۔
یہ بھی قابلِ تحسین امر ہے کہ ادارہ کے اساتذہ اور انتظامیہ نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے حوصلہ افزائی اور اعتماد کے اظہار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی بہترین تربیت کیلئے اسی جذبے، دیانت داری اور محنت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
بلاشبہ ایسے تعریفی خطوط اور حوصلہ افزائی کے اقدامات تعلیمی میدان میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر اسی جذبے اور باہمی تعاون کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے تعلیمی ادارے نہ صرف بہترین نتائج دیں گے بلکہ ایک باکردار، باصلاحیت اور مہذب نسل کی تعمیر میں بھی نمایاں کردار ادا کریں گے۔
