وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسی مہلک بیماریوں کے مکمل خاتمے کیلئے تمام سرکاری ہسپتالوں میں تمام مریضوں کی اسکریننگ یقینی بنائی جائے۔انہوں نے یہ ہدایات اسلام آباد میں وزارت صحت کے امور سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔انہوں نے وزارت صحت کو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ہیپاٹائٹس، ایڈز اور دیگر بیماریوں کی بروقت اطلاع دینے کے لیے ایک مربوط نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
شہباز شریف نے وزارت کو مزید ہدایت کی کہ ہیپاٹائٹس کی سکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر "وزیراعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام” پر عملدرآمد تیز کیا جائے۔انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ متعدی بیماریوں کے پھیلا کو روکنے کے لیے ملک بھر میں آٹو ڈس ایبل سرنجوں کا استعمال کیا جائے اور ڈریپ اور دیگر متعلقہ اداروں سے کہا کہ وہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو مکمل طور پر روکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کو صحت کی بہترین ممکنہ سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائیگا۔وزیراعظم کو پولیو، ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایڈز کے علاج کے لیے ملک بھر کے بڑے ہسپتالوں میں اٹھانوے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جنہیں ایک سال کے اندر ایک سو چونسٹھ تک بڑھا دیا جائے گا۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملک واپس آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کیلئے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایڈز کی تشخیص کی سہولیات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کیلئے وزیراعظم کے قومی پروگرام کا آزمائشی مرحلہ جلد ہی اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں شروع کیا جائے گا۔
