معاشرے میں امن، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کا فروغ کسی بھی مہذب قوم کی پہچان ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی باصلاحیت اور مخلص شخصیت اس عظیم مقصد کے لیے آگے آئے تو یہ نہ صرف ادارے بلکہ پورے معاشرے کے لیے خوش آئند امر ہوتا ہے۔ حال ہی میں معروف اور ہر دلعزیز سماجی شخصیت محمد حذیفہ کو قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے تحصیل نورپورتھل کا کوآرڈینیٹر نامزد کیا جانا ایک ایسا ہی قابلِ تحسین اقدام ہے۔
محمد حذیفہ کا شمار ان نوجوان اور متحرک شخصیات میں ہوتا ہے جو خاموشی سے لیکن مؤثر انداز میں سماجی خدمت کے میدان میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات کا دائرہ کار وسیع ہے، جس میں فلاحی سرگرمیاں، عوامی مسائل کا حل، تعلیمی شعور کی ترویج اور مذہبی ہم آہنگی کا فروغ شامل ہیں۔ اسی طرف موصوف حکیم ملک ارشد حسین کلو اور دیگر مخلص سماجی شخصیات کےساتھ ملکر تواتر سے علاقہ میں فری میڈیکل کمیپس کا بھی انعقاد کروارہے ہیں جن سے لوگوں کو بھرپورریلیف مل رہاہے اور عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا جارہاہے۔ محمد حذیفہ نہایت مثبت سوچ اور ہردلعزیز شخصیت کے مالک ہیں۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی بنیاد پر انہیں اس اہم ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔
قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و انسانی حقوق پاکستان ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ملک میں امن، برداشت اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس ادارے کے ساتھ بطور کوآرڈینیٹر وابستگی نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ محمد حذیفہ سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقے میں بھائی چارے، برداشت اور اتحاد کی فضا کو مزید مضبوط کریں گے۔
ان کی نامزدگی پر عوامی، سماجی، مذہبی، تعلیمی، ادبی، تجارتی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ایک قابلِ اعتماد اور مقبول شخصیت ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا ان پر اعتماد اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ہر طبقے کے لیے قابلِ قبول ہیں۔
آج کے دور میں جب معاشرہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں محمد حذیفہ جیسے افراد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان کی قیادت میں امید کی جا سکتی ہے کہ تحصیل نورپورتھل میں امن، محبت اور باہمی احترام کی فضا کو فروغ ملے گا اور نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے گا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محمد حذیفہ کی یہ نامزدگی نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک نیک شگون بھی ہے۔ دعا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھاتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنیں اور امن و ہم آہنگی کے پیغام کو عام کریں۔
