کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہاہے کہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات سے اس کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن براہ راست تنازعہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے۔
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے ذریعے حریت پسند کشمیریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی سخت اور پرزورالفاظ میں شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا بھارتی فوجیوں نے جموں کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جن میں جموں کشمیر کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کشمیریوں کو دبانے کے لیے قابض حکام نے اپنے استعماری ہتھکنڈے جاری رکھتے ہوئے جموں کشمیر میں بے بنیاد الزامات پر مزید جائیدادایں ضبط کرلیں۔
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ جائیدادوں پر قبضہ حریت پسند کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا ایک اہم ہتھکنڈابن چکا ہے جو اگست 2019میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے بعد سے جاری ہے۔سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ شہیدوں کا خون رنگ لاتا ہے جیسا علامہ صاحب فرماتے ہیں۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹْوٹا تو کیا غم ہے
کہ خْونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحرپیدا
سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کشمیری حر یت پسند عوام اپنے حق ﴿حقِ خودارادیت﴾ کے لیے جِس جوش وجذبہ کا مظاہرہ کیا ہے اور کر رہی ہے یہ اُس کامیابی کی ضامن ہے جِس کے لیے کشمیری حریت پسند دہائیوں سے خون دے رہے ہیں- کشمیری حریت پسند عوام بھارتی مظالم کو بروئے کار لائے بغیر اپنی جدوجہد کو پوری دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
