معاشرے کی حقیقی خوبصورتی ان افراد اور اداروں سے عیاں ہوتی ہے جو بلا غرض ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ ایسے ہی جذبۂ خدمت کی ایک خوبصورت مثال اُس وقت دیکھنے میں آئی جب زینت لیب اور توصیف فارمیسی کے زیرِ اہتمام ایک فری آئی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس نے نہ صرف درجنوں مریضوں کی بینائی سے متعلق مسائل کو کم کیا بلکہ امید کی ایک نئی کرن بھی روشن کی۔
اس فری آئی کیمپ میں معروف ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر عثمان اکبر قاضی نے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کا نہایت باریک بینی سے معائنہ کیا۔ آنکھوں کے مختلف امراض میں مبتلا افراد کو نہ صرف مفت طبی مشورے فراہم کیے گئے بلکہ انہیں ادویات اور چشمے بھی بلا معاوضہ دیے گئے، جو بلاشبہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کو آنکھوں کی بیماریوں سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی دینا بھی اس کیمپ کا اہم حصہ تھا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ اقدام صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ شعور اجاگر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہے۔
اس موقع پر سوشل ورکر ملک اللہ دتہ کنول اور ملک ظفر کلو نے اس فلاحی سرگرمی کے انعقاد پر ملک ارشد حسین کلو اور محمد حذیفہ کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے ان کی مخلصانہ کوششوں کو دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت قرار دیتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو بغیر کسی مفاد کے انسانوں کی مدد کو اپنا مقصد بناتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ارشد حسین کلو اور محمد حذیفہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اس عظیم مشن کو جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستحق اور غریب افراد کو مقامی سطح پر مفت علاج کی سہولت فراہم کرنا نہ صرف ایک سماجی ذمہ داری ہے بلکہ اس سے دلی سکون اور خوشی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ان کے یہ الفاظ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خدمتِ خلق کا جذبہ صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک احساس ہے، جو دلوں کو جوڑتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی ان سوشل ورکرز کے اس اقدام کو سراہا گیا اور اسے قابلِ تقلید قرار دیا گیا۔ بلاشبہ، ایسے اقدامات معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں اور ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو تو چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے دیگر افراد اور ادارے بھی اس طرح کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے، اور یہ بنیاد اسی وقت مستحکم ہو سکتی ہے جب ہم سب مل کر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیں۔
