تھل کی سرزمین ہمیشہ سے باوقار شخصیات اور مخلص قیادت کی امین رہی ہے۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام ممبر صوبائی اسمبلی سردار علی حسین خان بلوچ کا تھا، جن کی وفات نے نہ صرف سیاسی میدان بلکہ سماجی اور عوامی حلقوں کو بھی گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے تھل میں پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ واقعی، تھل کی فضا سوگوار ہو چکی ہے۔
سردار علی حسین خان بلوچ ایک سادہ مزاج، مخلص اور عوام دوست رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز عوامی خدمت کے جذبے کے تحت کیا اور ہمیشہ اپنے حلقے کے مسائل کو ترجیح دی۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک ایسے انسان بھی تھے جو اپنے دروازے ہر وقت عوام کے لیے کھلے رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں عاجزی، انکساری اور خلوص نمایاں تھا، جو انہیں دوسروں سے منفرد بناتا تھا۔ بطور چیرمین یونین کونسل جمالی بلوچاں ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل خوشاب اور ممبر صوبائ اسمبلی کے طورپر انہوں نے علاقہ کےلیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔
ان کی سیاست کا محور ہمیشہ عوامی فلاح و بہبود رہا۔ چاہے وہ ترقیاتی منصوبے ہوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی ہو یا عوامی مسائل کا حل، انہوں نے ہر میدان میں اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔ تھل جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ وہ اس خطے کی آواز تھے، جو ایوانوں میں بھی پوری جرات کے ساتھ گونجتی تھی۔
سردار علی حسین خان بلوچ کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اختلاف رائے کو برداشت کرتے تھے اور اپنے مخالفین کے ساتھ بھی خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے حلقے میں بلکہ سیاسی مخالفین میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ نفرت کی سیاست کے قائل نہیں تھے بلکہ بھائی چارے، رواداری اور اتحاد کے علمبردار تھے۔
ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا بلاشبہ آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔ ان جیسے مخلص اور دیانتدار رہنما کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے چاہنے والوں، کارکنوں اور اہلِ علاقہ کے لیے یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدائی نے ہر اس دل کو غمزدہ کر دیا ہے جو ان سے کسی نہ کسی طور وابستہ تھا۔
سردار علی حسین خان بلوچ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست کا اصل مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔ انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور جذبہ خدمت ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔
آج جب تھل کے لوگ انہیں رخصت کر رہے ہیں تو ان کا دل غم سے بوجھل ہے، مگر ساتھ ہی یہ احساس بھی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ایک مقصد کے تحت گزاری اور اس مقصد میں کامیاب بھی رہے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا نام تھل کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
