وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نادار اور متوسط طبقے کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں خلیجی بحران کے پٹرولیم مصنوعات پر اثرات، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی ملکیتی رجسٹریشن جلد مکمل کرنے کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے کئے جارہے ہیں تاکہ مستحقین ممکنہ ریلیف سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل سسٹم کا استعمال اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جائے گا کہ عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ سرکاری اخراجات میں کمی ، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی اور ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیاں فوری طور پر بند کردی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بار بار مسترد کیا گیا ہے اور کفایت شعاری سے بچائے گئے فنڈز کو عوامی ریلیف کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں سے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
اجلاس میں ایندھن کی بچت کے لیے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے تجاویز اور ایندھن کے موجودہ ذخائر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیراعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات اور کفایت شعاری مہم کے نفاذ سے متعلق انٹیلی جنس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اورمستقبل کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔
