بسم اللہ الرحمن الرحیم

علاقائی

ریڈیو پاکستان سرگودھا کا عید ملن مشاعرہ — روایت، ثقافت اور نوجوان آوازوں کا حسین امتزاج

عید کی خوشیاں جہاں اپنوں سے ملنے اور محبتیں بانٹنے کا نام ہیں، وہیں ادبی حلقوں میں عید ملن مشاعروں کی روایت بھی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اسی خوبصورت روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ریڈیو پاکستان سرگودھا نے ایک شاندار عید ملن مشاعرے کا انعقاد کیا، جسے براہِ راست نشر کیا گیا۔ یہ مشاعرہ نہ صرف ادبی ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوا بلکہ نوجوان شعراء و شاعرات کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین پلیٹ فارم بھی بنا۔

اس روح پرور مشاعرے کی میزبانی کے فرائض نامور قلمکارہ منزہ انور گوئیندی نے نہایت خوبصورتی اور سلیقے سے انجام دیے۔ ان کا اندازِ گفتگو، لہجہ اور اشعار کی پیشکش سامعین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتی رہی۔ پروگرام کا آغاز بھی ان کی دلنشین غزل سے ہوا، جس نے محفل کو ابتدا ہی سے ایک ادبی رنگ میں رنگ دیا۔

مشاعرہ دو ادوار پر مشتمل تھا، جس میں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے خوبصورت کلام کو شامل کیا گیا۔ یہ بات اس پروگرام کی خاص خوبی تھی کہ اس میں زبانوں کی ہم آہنگی کے ذریعے ثقافتی رنگا رنگی کو اجاگر کیا گیا۔ اردو غزل اور نظم کے ساتھ ساتھ پنجابی شاعری کی مٹھاس نے سامعین کو بھرپور انداز میں محظوظ کیا۔

محفل میں شرکت کرنے والے شعراء و شاعرات میں غزل گو شاعرہ نسیم شاہانہ، پنجابی کے معروف شاعر وصی شاہ، غزل و نظم گو شاعرہ عابدہ نذر اور نوجوان شعراء کاشف علی، محمد مبشر، عبداللہ ہاشمی اور خالد چشتی شامل تھے۔ پنجابی شاعری کی نمائندگی رفیق آزاد اور مسکان علی مسکان نے کی۔ تمام شعراء نے اپنے اپنے منفرد انداز میں کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد سمیٹی۔

خصوصی طور پر نوجوان شعراء کی شرکت اس بات کی غماز تھی کہ ادبی روایتیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ نئی نسل میں بھی پروان چڑھ رہی ہیں۔ ان کے اشعار میں جہاں جذبات کی سچائی تھی، وہیں عصری مسائل اور معاشرتی موضوعات کی جھلک بھی نمایاں نظر آئی۔

اس مشاعرے کی کامیابی میں پروڈیوسر فریحہ کنول کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے، جنہوں نے پروگرام کو نہایت عمدہ انداز میں ترتیب دیا۔ جبکہ تکنیکی معاونت نعمان شفیق نے انجام دی، جس کے باعث براہِ راست نشریات میں کسی قسم کی رکاوٹ محسوس نہیں ہوئی اور سامعین ایک معیاری پروگرام سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

ریڈیو پاکستان سرگودھا کا یہ عید ملن مشاعرہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قومی ادارے آج بھی ادب و ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے پروگرام نہ صرف اہلِ ذوق کے لیے تفریح کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ نئی ادبی آوازوں کو متعارف کروانے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس مشاعرے نے عید کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا اور سامعین کے دلوں میں ادب کی محبت کو مزید تازہ کر دیا۔ امید کی جاتی ہے کہ ریڈیو پاکستان سرگودھا مستقبل میں بھی ایسے معیاری اور بامقصد ادبی پروگرامز کا انعقاد کرتا رہے گا، تاکہ ہماری ثقافتی اور ادبی روایات زندہ و تابندہ رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button