دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں فوری کشیدگی کے خاتمے کے لیے خلوص نیت اور واضح حکمت عملی کے تحت پل بنانے میں اصولی اور متحرک کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان متعلقہ علاقائی ممالک اور خطے سے باہر دیگر شراکت داروں کے ساتھ مسلسل اور تعمیری رابطے میں ہے، اور فوری کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دے رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف خود سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت اور باہمی مفاہمت کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ ان کے حالیہ بیانات کو عالمی سطح پر، بالخصوص امریکی قیادت کی جانب سے بھی پذیرائی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل اور مؤثر رابطے میں ہیں تاکہ ان کوششوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔
طاہر اندرابی نے بعض میڈیا حلقوں میں گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں اور قیاس آرائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حساس حالات میں سفارت کاری کے لیے احتیاط، صبر اور رازداری ناگزیر ہوتی ہے۔
انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کشمیری حریت رہنماؤں آسیہ اندرابی و دیگر کو سنائی گئی سزاؤں پر پاکستان کے ردعمل سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سیاسی حقوق کی جدوجہد کو دہشت گردی سے نہیں جوڑ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ ہر جائز سیاسی تحریک کو دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے۔
ترجمان نے بھارتی عدالتی نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خود بھارت کے ججز بھی اس کی غیر جانبداری پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزم کے اعتراف جرم کے باوجود بریت نے انصاف کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں۔
طاہر اندرابی نے کشمیری سیاسی قیادت کو سزائیں دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ غیر سفارتی زبان مایوسی کی عکاسی کرتی ہے، اور جب دلائل کمزور پڑ جائیں تو سخت بیانیہ اپنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس طرح کی بیان بازی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اس کی پالیسی تحمل، شائستگی اور ذمہ دارانہ سفارت کاری پر مبنی ہے۔
