سینیٹ کی مسلم ممالک کے خلاف بیان پر اسرائیلی وزیرِاعظم کی مذمت

سینیٹ نے آج ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے اس حالیہ بیان کی شدید مذمت کی، جس میں انہوں نے بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مسلم ممالک کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔یہ قرارداد سینیٹر پلواشہ محمد زئی خان نے پیش کی، جس میں اسرائیلی قیادت کے اس رویے پر سخت تشویش ظاہر کی گئی جو سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر امتِ مسلمہ کے اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ایوان نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور، جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں نیز عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کو نظرانداز کرنے کی شدید مذمت کی۔

قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا گیا۔ ایوان نے اسرائیلی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات کو علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔سینیٹ نے اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ممالک کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے نام نہاد صومالی لینڈ خطے کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے اعلان کو بھی مسترد کیا۔

ایوان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو انسانیت کے خلاف جرائم اور اشتعال انگیز اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے اور مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا کو یقینی بنائے۔ قرارداد میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے بلا رکاوٹ اور پائیدار انسانی امداد کی فراہمی، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین کے ذریعے امداد کی ترسیل، اور غزہ میں بحالی و تعمیرِ نو کے عمل کے جلد آغاز کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ایوان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی تاریخی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

سوالات کے وقفے کے دوران وزیرِ مملکت برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے ایوان کو بتایا کہ بیت المال کے فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور کثیر جہتی نظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مالی وصولیاں اور اخراجات منظور شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں، جبکہ باقاعدہ اندرونی جانچ کے ساتھ ساتھ سالانہ بیرونی جانچ بھی کی جاتی ہے۔ بے ضابطگی یا بدعنوانی کی صورت میں تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔وزیرِ مملکت برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ پاکستان مواصلاتی اختیار نے فحش اور غیر اخلاقی مواد پر مشتمل دس لاکھ سے زائد روابط بند کیے ہیں، جبکہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق پانچ ہزار ایک سو پچھتر ویب گاہوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کے لیے محفوظ انٹرنیٹ کے استعمال کے فروغ کے لیے آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔

توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ شاہراہوں اور موٹر ویز پر حادثات کی روک تھام کے لیے عالمی سطح کے بہترین طریقہ کار اپنائے جا رہے ہیں، جن میں ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی، گاڑیوں کی ضبطی اور تیز رفتاری پر جرمانوں میں اضافہ شامل ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ناصر عباس کے نکات کے جواب میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین کے طبی علاج سے متعلق تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبی رپورٹس تسلی بخش ہیں اور کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا نہیں۔اجلاس اب جمعہ کی صبح دس بج کر تیس منٹ پر دوبارہ منعقد ہوگا۔

Exit mobile version