گرفتار خوارجی کے اعترافی بیان نے فتنہ الخوارج کے گمراہ کن بیانیے کو بے نقاب کر دیا

سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خوارجی عمر دین عرف جذبہ کے اعترافی بیان نے فتنہ الخوارج کے گمراہ کن بیانیے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

اپنے اعترافی بیان میں عمر دین نے انکشاف کیا کہ خوارجی کمانڈروں کے ساتھ عموماً 60 سے 70 افغان باشندے موجود ہوتے ہیں اور انہیں افغانستان میں تربیت دی جاتی ہے۔

اس نے خوارجی نیٹ ورک کے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خوارج منشیات کے عادی ہیں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں۔

عمر دین کے مطابق فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود خوارجی کمانڈروں کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس گروہ کے افراد بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور تاوان کے لیے اغوا جیسی جرائم پیشہ سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔

گرفتار خوارجی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ فتنہ الخوارج کے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے دور رہیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اعترافی بیان فتنہ الخوارج کے حقیقی عزائم اور سرگرمیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔

Exit mobile version