
انڈس واٹر ٹریٹی پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا: ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے ایک بار پھر بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ انڈس واٹر ٹریٹی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے اور معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، واضح کرتے ہوئے کہ پاکستان اپنے وجودی آبی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی قانونی ٹیموں نے رواں ماہ کے اوائل میں ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کی کارروائی میں شرکت کی اور عدالت سے درخواست کی کہ وہ دریاؤں پر بننے والے پن بجلی منصوبوں کے بعض ڈیزائن پہلوؤں کے تناظر میں انڈس واٹر ٹریٹی کی تشریح اور اطلاق کا جائزہ لے۔
ترجمان نے کہا کہ ثالثی عدالت کی جانب سے بھارت کو بھی کارروائی میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جو معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داری تھی، تاہم بھارت پیش نہیں ہوا۔
دریائے چناب پر بھارت کے ساولکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت انڈس واٹر کمشنرز کی سطح پر معلومات اور مشاورت کے لیے اٹھایا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انڈس واٹر ٹریٹی ایک باقاعدہ اور مؤثر بین الاقوامی معاہدہ ہے اور کوئی یکطرفہ اقدام یا انحراف اس قانونی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تنازعات اور مسائل کا پُرامن حل بات چیت اور بین الاقوامی قانونی طریقہ کار کے ذریعے چاہتا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے ہجومی تشدد کے واقعات سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھارت میں کم از کم 55 مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کیا گیا، جو نفرت پر مبنی اور منظم تشدد کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے شواہد، نام اور مقدمات کی پیش رفت موجود ہے، جبکہ بعض معتبر اطلاعات کے مطابق کئی واقعات میں مقامی حکام یا سیاسی عناصر کی مبینہ سرپرستی بھی شامل رہی۔
انہوں نے عالمی برادری سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام واقعات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، نیز مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف نفرت اور عدم برداشت کے رجحانات کا مؤثر تدارک کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی افغانستان سے متعلق رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ رپورٹ کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری افغان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں بالخصوص ٹی ٹی پی کو سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 2021 کے بعد ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان اس کے حملوں کا بنیادی ہدف ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اہم رپورٹ پر اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور سلامتی کونسل کے ارکان سمیت عالمی برادری کے ساتھ رابطہ کرے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ وزیرِاعظم شہباز شریف غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نیک نیتی سے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی ہے اور وہ اس فورم پر تنہا نہیں بلکہ آٹھ اسلامی و عرب ممالک کی مشترکہ آواز کے طور پر شریک ہے۔















