
زرعی قرضوں تک رسائی بڑھانے کے لیے’’ زرخیزی اسکیم‘‘ کو توسیع دی جائے: گورنر اسٹیٹ بینک
بینک دولت پاکستان کی جانب سے آج کراچی میں زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی (اے سی اے سی) کا اجلاس ہوا ، جس میں زرعی قرضوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ شمولیتی اور پائیدار زرعی مالیات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جناب جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو میکرو اکنامک استحکام مل گیا ہے اور اب یہ نمو کے زیادہ پائیدار راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26ء کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پورے مالی سال کی معاشی نمو کا تخمینہ 3.75 سے 4.75 فیصد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2026ء تک عمومی مہنگائی کم ہو کر 5.8 فیصد پر آ چکی ہے، جس سے زری پالیسی اس قابل ہوئی کہ وہ نمو کو سہارا بھی دے اور قیمتیں مستحکم بھی رہیں۔ فراست پر مبنی پالیسیوں، پائیدار ترسیلات زر اور اجناس کی مستحکم قیمتوں کے باعث بیرونی کھاتہ بڑی حد تک قابو میں ہے۔
گورنر نے زور دے کرکہا کہ زراعت کا شعبہ کھیتوں کی پیداواریت، دیہی روزگار کی معاونت اور غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے قدر اضافی ، مارکیٹ کے روابط اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی میں مدد دینے کے لیے زرعی مالی وساطت کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ مالی سال 25ء کے دوران اسٹیٹ بینک اور بینکوں کی مشترکہ کوششوں سے 2,577 ارب روپے کے ریکارڈ زرعی قرضے جاری کیے گئے، جو سالانہ 16 فیصد نمو ہے۔ اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی میں زرعی قرضوں کی تقسیم بڑھ کر 1,412 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ قرض گیروں کی تعداد بڑھ کر 2.97 ملین ہو گئی ہے۔

گورنر نے بینکوں سے کہا کہ وہ مالی خدمات سے محروم اور نیم محروم علاقوں ، بالخصوص قرض لینے والے چھوٹے کاشت کاروں کی تعداد تیزی سے بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے بھرپور استفادہ کریں۔ ان اقدامات میں چھوٹے کاشت کاروں اور نیم محروم علاقوں کے لیے رسک کوریج اسکیم اور زرعی قرضوں کے لیے اسٹیٹ بینک کا فلیگ شپ ڈجیٹل پلیٹ فارم’ زرخیز ی‘ (Zarkheze) شامل ہیں۔کمیٹی نے’ زرخیز ی‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، جو پاکستان میں زرعی قرضے دینے کی ڈجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب اہم قدم ہے۔ یہ پلیٹ فارم کاشت کاروں کی ڈجیٹل آن بورڈنگ، قرض کے معیاری تجزیے، اراضی اور فصل سے متعلق معلومات کے انضمام، اور قرضے کی درخواست سے لے کر اجرا تک مکمل نگرانی (اینڈ ٹو اینڈ ٹریس ایبلٹی) کی سہولت دیتا ہے، جبکہ وینڈر کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ قرضہ معیاری خام مال کے لیے ہی استعمال ہو۔

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ’زرخیزی‘ کو اتنا فروغ دیا جائے کہ یہ زرعی قرضے کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ بن جائے، خاص طور پر چھوٹے قرضوں کو کاروباری لحاظ سے قابلِ عمل بنایا جاسکے اور قرض کی رسائی محض روایتی اور زیادہ حجم والے علاقوں تک نہ رہے بلکہ اسے بڑھا کر دور دراز علاقوں تک پھیلایا جا سکے۔ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ درخواستوں پر بروقت کارروائی کریں، اس اسکیم کو اپنا سمجھیں ، اور وینڈر ایکو سسٹم کو مزید بہتر بنائیں تاکہ تصدیق شدہ زرعی خام مال اور مربوط مشاورتی خدمات تک کاشت کاروں کی رسائی بڑھے ۔
مزید برآں ، گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے کہا کہ وہ مالی سال 26ءکے لیے زرعی قرض کے توسیعی منصوبوں پر مکمل عمل درآمد کریں۔ انہوں نے اس ضمن میں رسائی بڑھانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ اراضی کے ریکارڈ کی ڈجیٹائزیشن اور فِن ٹیک، ایگری ٹیک فرموں، اور مائکروفنانس اداروں کے ساتھ شراکت کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں فصلی قرضے کے بیمہ فریم ورک (سی ایل آئی ایس) کے تازہ ترین ورژن CLIS+ کی تشکیل پر بھی بات کی گئی، جو ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے چلنے والے پاکستان انشورنس ٹرانسفارمیشن پروگرام (PITP) کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، اس اقدام کا مقصد آفات کی صورت میں زرعی شعبے کو نقصانات سے بچانا ہے۔ تجویز کردہ اسکیم کا مقصد فصلوں کی کوریج کو بڑھانا، رسک شیئرنگ کو بہتر بنانے اور کاشت کاروں کو ادائیگیوں کے لیے انشورنس کنسورشیم قائم کرنا، اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے آفات کا جائزہ متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مالی معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ آمدنی کے نقصان سے تحفظ دیا جائے۔ مستقبل میں ، ایشیائی ترقیاتی بینک کا یکجہتی فنڈ قرض نہ لینے والے کاشت کاروں تک اپنی کوریج کی توسیع اور قومی انشورنس پالیسی برائے زراعت کی تشکیل میں بھی مدد دے گا۔
اس کے علاوہ، کمیٹی نے گودام کی برقی رسید سے قرض (EWRF) کا طریقہ وسیع کرنے پر بھی غور کیا تاکہ فصل کی کٹائی کے بعد کاشت کار کی سیالیت کو بہتر بنایا جاسکے، مجبوری میں فصل کی فروخت کا سلسلہ کم کیا جاسکے اور زرعی منڈیوں کے درمیان روابط مستحکم کیے جا سکیں۔ کمیٹی نے منظور شدہ گوداموں کے انفراسٹرکچر کو وسعت دینے اور گودام کی برقی رسید پر قرضوں کے اجرا میں بینکوں کی شرکت بڑھانے کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے تین ترجیحات بیان کیں، اور کہا کہ ’زرخیزی‘ اسکیم ان کے حصول کے لیے انفرا سٹرکچر فراہم کرتی ہے:
- ترسیل: قرض لینے والوں تک رسائی بڑھائیں، خاص طور پر مائکروفنانس بینکوں اور چھوٹی مالیت کی مصنوعات (small-ticket products) کے ذریعے۔
- وسیع البنیاد شمولیت: گزر اوقات کرنے والے اور چھوٹے کاشت کاروں کی مالی اعانت کو پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مددگار قرضوں کے ذریعے مضبوط بنانا۔
- جغرافیائی تنوع: زرعی قرضوں کا دائرہ نیم محروم علاقوں تک بڑھانا۔
اجلاس کے اختتام پر، گورنر جمیل احمد نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ زرعی قرض گیروں کی تعداد بڑھانے، چھوٹے کاشت کاروں کی شمولیت کو مستحکم کرنے، اور ’زرخیزی‘ جیسے ڈجیٹل ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دیں تاکہ پائیدار زرعی ترقی کو سہارا مل سکے ۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی زیرِ قیادت ایگریکلچر کریڈٹ ایڈوائزری کمیٹی (اے سی اے سی) کا اجلاس ایک موثر اسٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے جو مالی اداروں اور اہم شراکت داروں کو یکجا کرتا ہے اور زرعی قرضوں کو شمولیت، پیداواریت، اور طویل مدتی معاشی استحکام کے محرک کے طور پر فروغ دیتا ہے۔















