
افغانستان سے 1100 پاکستانی طلبہ کی واپسی، 947 تاحال تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں: وزیرِ پارلیمانی امور
وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش کے بعد اب تک گیارہ سو پاکستانی طلبہ افغانستان سے واپس وطن آ چکے ہیں۔انہوں نے آج قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتایا کہ ان میں سے بیشتر طلبہ ہوائی راستے کے ذریعے پاکستان واپس آئے۔وزیرِ پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت نو سو سینتالیس پاکستانی طلبہ جلال آباد اور کابل میں موجود ہیں جو اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ طلبہ سرحد پر پھنسے ہوئے نہیں ہیں اور افغانستان میں پاکستان کا سفارت خانہ انہیں مکمل سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے افغانستان سے دہشت گردی کے خدشات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکام اس بات کی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ آج قومی اسمبلی میں تین بل پیش کیے گئے، جن میں ٹریڈ آرگنائزیشنز (تیسری ترمیم) بل 2026ء، مینوئل اسکیوینجنگ کی ممانعت اور سینی ٹیشن ورکرز کے تحفظ کا (اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری) بل 2026ء اور ریلوے کنیکٹیوٹی اینڈ ماڈرنائزیشن بل 2026ء شامل ہیں۔اسپیکر نے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیے۔اجلاس کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2026ء بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس اب کل صبح گیارہ بجے دوبارہ ہوگا۔















