بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

ڈاکٹر شمشاد اختر کی نمایاں خدمات پر اسٹیٹ بینک کا تعزیتی ریفرنس

بینک دولت پاکستان نے سابق گورنر، ممتاز ماہر معاشیات اور اصلاح پسند مرکزی بینکار ڈاکٹر شمشاد اختر کی زندگی اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا۔ ان کے انتقال کو ملک کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تصور کیا جا رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے تعزیتی ریفرنس میں پاکستان کے مالی اور اقتصادی منظرنامے میں ڈاکٹر اختر کی لافانی خدمات کو اجاگر کیا۔ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنروں، کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران، مالی شعبے کے سینئر ارکان، اور اسٹیٹ بینک کے عہدیداروں نے ریفرنس میں شرکت کی۔

گورنر جمیل احمد نے یاد دلایا کہ جنوری 2006ء میں ڈاکٹر شمشاد کا اسٹیٹ بینک کی 14ویں اور بطور خاتون پہلی گورنر کی حیثیت سے تاریخی تقرر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد کی قیادت نہ صرف تبدیلی لانے والی تھی بلکہ بصیرت افروز بھی تھی۔ انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھایا اور ان کے اثرات کو گہرا کیا۔ انہوں نے مرکزی بینک کی خودمختاری، نظم و نسق اور پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

گورنر جمیل احمد کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پہلے اسٹریٹجک پلان 2005ء تا 2010ء کے نفاذ کے دوران انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوایا جس سے مرکزی بینک کو جدید بنانے میں مدد ملی، ضوابطی (ریگولیٹری) صلاحیت میں اضافہ ہوا، خطرے کی نگرانی مضبوط ہوئی، اور اسٹیٹ بینک بہترین بین الاقوامی روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہوا۔ ان کے دور میں جدید مرکزی بینکاری کی طرف فیصلہ کن اقدامات کیے گئے جن میں ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (آر ٹی جی ایس) سسٹم کی آمد اور بازل ’دوم‘ معیارات کا نفاذ شامل ہے، جس سے پاکستان کے بینکاری نظام کی مضبوطی اور استحکام میں نمایاں بہتری آئی۔

ڈاکٹر شمشاد اختر نے مالی جدت طرازی اور مالی شمولیت کو بھی آگے بڑھایا۔ ان کی قیادت میں اہم اقدامات میں الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو کا قیام، خصوصی ٹاسک فورس کے ذریعے اسلامی بینکاری کا فروغ، صارفین کے تحفظ اور محفوظ لین دین کے فریم ورک کو مضبوط کرنا، اور برانچ لیس بینکنگ ضوابط کی توسیع شامل تھی۔ انہیں بہتر اور زیادہ محفوظ بینک نوٹ ڈیزائن متعارف کرانے کا اعزاز بھی ان ہی کو حاصل ہے، جن میں پاکستان کا پہلا 5,000 روپے کا بینک نوٹ بھی شامل ہے۔

گونر جمیل احمد نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ڈاکٹر شمشاد اختر کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اور اقوام متحدہ میں سینئر عہدوں پر کام کیا اور دو بار (نگران) وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا۔ انہیں ایشیا کے بہترین مرکزی بینک گورنر کا اعزاز دیا گیا، اور نشانِ امتیاز جیسے قومی اعزازات سے نوازا گیا۔

اپنے کلمات کے اختتام پر گورنر جمیل احمد نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈاکٹر شمشاد اختر کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، اور کہا کہ ان کی کمی بہت محسوس کی جائے گی، تاہم بطور ادارہ ساز اور مخلص پبلک سرونٹ کے طور پر ان کا ورثہ آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔

ڈاکٹر شمشاد اختر کی بہن محترمہ نوشابہ رحمان، سابق گورنرز ڈاکٹر عشرت حسین ، سید سلیم رضا، یاسین انور، ڈاکٹر رضا باقر، نباف کی سی ای او لبنیٰ فاروق ملک، ’کارانداز‘ کے سی ای او وقاص الحسن، سابق چیئرمین پی بی اے آفتاب منظور، پی بی اے کے سی ای او منیر کمال، اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ سبزواری نے بھی مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔

تعزیتی ریفرنس میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں ڈاکٹر شمشاد اختر کی زندگی کے اہم سنگِ میل کا احاطہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button