
پاکستان سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: دفتر خارجہ
دفتر خارجہ نے لکسمبرگ میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پاکستان سے متعلق بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
آج اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر اپنے پڑوسی کے طور پر دہشت گردی کے فروغ اور علاقائی عدم استحکام میں کردار کے سنگین ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے خطے میں دہشت گردی کو ہوا دی اور عدم استحکام کو فروغ دیا۔
ترجمان نے کہا کہ لکسمبرگ میں بھارتی وزیر خارجہ کا بیان اس حالیہ دستاویزی شواہد سے توجہ ہٹانے کی کھلی کوشش ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی کے تنازع کے دوران نئی دہلی نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے کسی تیسرے ملک کی مداخلت طلب کی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی دہشت گردی سے متعلق گھڑی ہوئی کہانیاں، خصوصاً پہلگام واقعے یا پاکستان کے خلاف اس کی غیر ذمہ دارانہ مہم جوئی، کسی بھی شور شرابے سے چھپ نہیں سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت بیرون ملک ماورائے عدالت قتل، ہمسایہ ممالک کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت، پاکستان میں دہشت گردی کی برآمد اور مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے میں ملوث رہا ہے۔ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک کے لیے تعاون کے بجائے دباؤ کا ذریعہ رہا ہے۔
فیضِ الٰہی مسجد دہلی کے قریب ڈھانچوں کی مسماری سے متعلق سوال پر ترجمان نے وقف املاک کو مسمار کرنے پر بھارتی حکومت کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسجد مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کی ایک اہم علامت ہے اور عبادت و سماجی زندگی کا مرکز رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ آر ایس ایس-بی جے پی گٹھ جوڑ کی جانب سے بھارت بھر میں مسلم ورثے کو مٹانے کی ایک منظم مہم کی عکاسی کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دیگر تاریخی مساجد بھی بے حرمتی یا مسماری کے خطرے سے دوچار ہیں اور بھارتی مسلمان شدید سماجی، معاشی اور سیاسی پسماندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کا سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کو اقلیتوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
طاہر اندرابی نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام مذہبی طبقوں بشمول مسلمانوں کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے اپنی آئینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں پوری کرے۔
افغانستان سے تعلقات پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا، تاہم افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ دہرایا۔













