آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کی معیشت کو “سی گریڈ” دیتے ہوئے اسے دنیا کے دوسرے کم ترین درجے پر رکھا ہے۔رپورٹ کے مطابق، "سی گریڈ” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کے معاشی ڈیٹا میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں، جو معیشت کی مؤثر نگرانی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے بھارت کے معاشی اعداد و شمار میں بڑی تکنیکی کمی کی بھی نشاندہی کی، جس میں سب سے اہم تِماہی ایڈجسٹمنٹ (quarterly adjustments) کی عدم موجودگی ہے۔مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں آمدنی کی بنیاد پر جی ڈی پی کے حساب کا طریقہ کار طویل عرصے سے ماہرین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔
آئی ایم ایف کی ان انکشافات نے بھارت کی معیشت کے اُس مصنوعی تاثر کو بے نقاب کر دیا ہے، جو گمراہ کن اعداد و شمار کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، اور یوں مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کمزوری سامنے آگئی ہے۔
