جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، جنوبی لبنان میں دو افراد جاں بحق

جنوبی لبنان میں جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملے نومبر 2024 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی ایک اور سنگین خلاف ورزی قرار دیے جا رہے ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق بدھ کے روز ایک اسرائیلی ڈرون نے جنوبی لبنان کے زہرانی ضلع میں زہرانی–مسیلہ شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

اسی روز ایک اور اسرائیلی ڈرون حملہ صور (Tyre) ضلع میں بازوریہ–برج الشمالی سڑک پر ایک گاڑی پر کیا گیا، جس میں ایک اور شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ لبنان کی وزارتِ صحت نے دونوں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائے ادرعی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ حملوں میں صیدا کے علاقے اور برج الشمالی میں حزب اللہ کے دو ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حزب اللہ یا لبنانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث اب تک سیکڑوں لبنانی شہری جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل بدستور لبنان کے پانچ اسٹریٹجک پہاڑی علاقوں پر قابض ہے، جن پر اس نے حالیہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، اس کے علاوہ کئی دیگر علاقوں پر بھی دہائیوں سے قبضہ برقرار ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں لبنان کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں، جو ستمبر 2024 میں مکمل جنگ کی صورت اختیار کر گئیں۔ ان حملوں میں چار ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً سترہ ہزار زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ اسرائیل شام اور فلسطین کے بعض علاقوں پر بھی قابض ہے اور اس نے فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ علاقوں سے انخلا کو مسترد کر رکھا ہے۔

 

Exit mobile version