بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

صدر کاانتخاب، ووٹنگ کا وقت ختم، گنتی کاعمل جاری

ملک کے 14ویں صدر کو منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ صدر مملکت کے انتخابات کے لیے قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر نے ہال کے دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔صدر کے انتخاب میں 349 یا اس سے زیادہ ووٹ لینے والے کو کامیاب قرار دیا جائے گا جب کہ نتائج کا اعلان کچھ دیر میں کیاجائے گا۔صبح 10 بجے شروع ہونے والی ووٹنگ کے دوران وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، حکمران اتحاد کی جانب سے صدر مملکت کے عہدے کے نامزد آصف علی زرداری، سنی اتحاد کونسل کے نامزد امیدوار محمود خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، سابق وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر اراکین قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ووٹ کاسٹ کیا۔

’ڈان نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار کو 91 ووٹ ملے، صوبائی اسمبلی میں 109 ووٹ کاسٹ ہوئے، ایک ووٹ مسترد کیا گیا جب کہ آصف زرداری کو 17 ملے۔جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن نے صدر مملکت کے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا ہے۔ادھر سندھ اسمبلی آصف زرداری کو 151 ووٹ ملے، ذرائع کے مطابق آصف زرداری کو ملنے والا ایک ووٹ مسترد ہوگیا جب کہ ان کے مد مقابل محمود اچکزئی کو 9 ارکان اسمبلی نے ووٹ دیا، نتائج کا حتمی اعلان پریذائیڈنگ افسر عقیل عباسی کریں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ صدر ممللت کے الیکشن کے لیے پنجاب اسمبلی کے کل 353ارکان میں سے 352ارکان نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں 161 ارکان اسمبلی نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔سندھ اسمبلی کے 161 اہل ووٹرز اراکین میں سے پیپلز پارٹی کے 116، ایم کیو ایم کے 37، (پی ٹی آئی حمایت یافتہ) آزاد اراکین 9 ہیں۔جی ڈی اے کے 3 اراکین نے حلف نہیں اٹھایا، 2 نشستوں پر نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوا ایک نشست پر کامیاب امیدوار کی وفات اور ایک نشست پر امیدوار نے اخراجات کی تفصیل جمع نہیں کرائی۔بلوچستان اسمبلی کے پریذائڈنگ آفسر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کل 62 اراکین نے ووٹ کاسٹ کرنےتھے، 47 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے جبکہ 15 ارکان غیرحاضر تھے۔انہوں نے بتایا کہ تمام ووٹ صحیح تھے، کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا، 47 ووٹ آصف علی زرداری کے حق میں استعمال ہوئے، محمود خان اچکزئی کو بلوچستان سے کوئی بھی ووٹ نہیں ملا۔

Back to top button