بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

چین کا ڈریگن سال کے دوران مسلسل ترقی کا سفر جاری رکھنے کا عزم

چین میں حالیہ موسم بہار تہوار سے ڈریگن سال کا آغاز ہوا ہے جو چینی ثقافت میں طاقت اور خوشحالی کی علامت ہے جبکہ تعطیلات کے دوران مضبوط کھپت چینی معیشت میں زندگی اور ترقی کی رفتار کی علامت ہے۔
چین میں 8 روزہ تعطیلات کے دوران تقریباً 2.3 ارب مقامی سفری دورے ہوئے جس میں 47 کروڑ 40 لاکھ مقامی سیاحتی سفری دورے بھی شامل تھے جو گزشتہ برس کی نسبت 34.3 فیصد زائد ہیں۔مقامی سیاحت پر مجموعی اخراجات 47.3 فیصد بڑھ کر 632.7 ارب یوآن (تقریبا 89 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئے جبکہ اس دوران تقریباً 68 لاکھ 30 ہزار اندرون و بیرون ملک سفری دورے بھی ہوئے۔
اس دوران ایک اور اہم آمدن باکس آفس تھی جس نے 8 ارب یوآن سے زائد آمدنی حاصل کی۔ یہ چین کی مضبوط کھپت اور پھلتی پھولتی ثقافتی صنعت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ 2024 دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے لئے امید افزا ہے۔
چینی معیشت نے 2023 میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کے باوجود 5.2 فیصد کی شرح نمو حاصل کرکے اپنے مقررہ اہداف پورے کئے اور شرح نمو میں بڑی عالمی معیشتوں کی قیادت کی۔ چین عالمی اقتصادی ترقی میں ایک اہم قوت ہے جس کی عالمی شراکت داری تقریباً 30 فیصد ہے۔


دسمبر کے وسط میں مرکزی اقتصادی کارکردگی کانفرنس میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے ترقی کے حصول ، ترقی سے پائیداری کو فروغ اور پرانی ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات ختم کرنے سے پہلے نئی اختراعات پر مبنی نظام قائم کرنے کے اصول پر زور دیا گیا تھا جس کا مقصد معاشی بحالی کی رفتار کو تقویت دینا ہے۔
تاہم بعض مغربی مبصرین اور ذرائع ابلاغ نے متعصبانہ تبصرے کرتے ہوئے “پیک چائنہ” متعصبانہ نظریہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور چینی ترقی کے پیچھے لچک اور منطق کو نظرانداز کرتے ہوئے چینی معیشت میں طویل مدتی گراوٹ کا دعویٰ کیا ہے۔
ان قیاس آرائیوں کے برعکس، چین کی معیشت نے اپنی منفرد قوتوں کو فروغ دیا جو اس کی لچک اور صلاحیت کو تقویت دیتی ہیں۔ ان منفرد قوتوں میں سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی، مارکیٹ کا ایک وسیع پیمانہ، ایک جامع صنعتی نظام، اور ہنر مند کارکنوں اور کاروباری افراد کی کافی تعداد شامل ہے۔ چینی معیشت تیز رفتار سے درمیانے درجے کی ترقی کی طرف منتقل ہو گئی ہے جس میں اب وسائل اور کم لاگت مصنوعات پر انحصار کرنے کی بجائے جدت طرازی کے ذریعے ترقی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

Back to top button