بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پولنگ سٹیشن کے اندر توڑ پھوڑ، قادر مندوخیل کیخلاف مقدمہ درج

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے۔242 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کے خلاف 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن کے اندر توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔قادر مندوخیل کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 8 فروری کو عام انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشن کے اندر توڑ پھوڑ، بیلٹ باکس کو پھینکنے اور تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی جس کا الیکشن کمیشن نے فوری نوٹس لے لیا تھا۔ایک پولیس عہدیدار نے تصدیق کی کہ قادر مندوخیل اور دیگر کے خلاف ضلع کیماڑی کے مدینہ کالونی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق شکایت گزار کلیم اللہ نے کہا کہ وہ سرکاری پرائمری اسکول ٹیچر ہے جنہوں نے قومی اسملی کی نشست این اے۔242 کے حوالے سے بلدیہ سیکٹر ڈی۔3 کے ایم ایچ اسکول میں پولنگ اسٹیشن میں پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر کام کیا۔انہوں نے کہا کہ 8فروری کو عام انتخابات کے دن پولنگ کا عمل ختم ہو چکا تھا اور وہ اور ان کا عملہ ووٹوں کی گنتی کی کوشش کر رہے تھے کہ تقریباً سوا 5 بجے ایک مشتعل ہجوم کمرے میں داخل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہجوم زبردستی پولنگ اسٹیشن کے کمرے میں داخل ہوا اور پولنگ کا مواد اور بیلٹ پیپرز پھینکنا شروع کر دیے۔ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا کہ ہجوم نے پولنگ بوتھ کو لاتیں ماری گئیں، سرکاری ڈیوٹی کی انجام دہی میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور دھمکیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے عملے کے ساتھ مل کر زمین پر بکھرے ووٹوں کو محفوظ کیا لیکن مواصلاتی نظام کے کام نہ کرنے کے باعث ہم آر او کو بروقت اطلاع نہیں دے سکے۔

مزید پڑھیے  امدادی مہم میں کرونا وائرس کے خاتمے تک راشن تقسیم کیا جائے۔ بلاول بھٹو

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں لوگوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ملزمان کی قیادت حلقہ این اے۔242 کے نامزد امیدوار قادر خان مندوخیل کر رہے تھے جن کے ساتھ 20 سے 25 دیگر افراد بھی تھے۔پولیس نے مندوخیل اور دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 149، 147، 186، 461 اور 506 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

Back to top button