بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

عبدالصمد انقلابی کاپاکستان میں 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کے فیصلے کا خیر مقدم

بھارت کی نام نہاد مردم شماری ذاتی معاملات میں بے جا مداخلت ہے: ترجمان اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے محبوس چیئرمین اور سینئر حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ہر سال 5 فروری کو آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیابھرمیں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بدترین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنے والے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔

تنظیم کے محبوس چیئرمین و سینئر حریت رہنما عبدالصمدانقلابی نے کہا ہے کہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کو منقسم جموں کشمیر کے لوگ آر پار اور دنیا بہر میں بسنے والے لوگ مظلوم جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر یہ دن مناتے ہیں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 34 سالوں سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستان اور جموں کشمیر کے لوگوں کی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کے سابقہ سربراہ مرحوم قاضی حسین احمد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ 1990ء میں مرحوم قاضی حسین احمد نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سابقہ امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی مشاورت سے جموں کشمیر میں جاری تحریک آزادی برائے اسلام کی حمایت کا اعلان کیا اور 5 فروری 1990ء کو یوم یکجہتی جموں کشمیر کے طور پر منانے کا بھی اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جموں کشمیر کے معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن کے نشانے پر تھی لہٰذا وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بغیر تاخیر اس اعلان کی تائید کی اور آنے والے سالوں میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی جموں کشمیر کے طور پر منانے کے باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ محبوس سینئر حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ اس دن کو سرکاری طور پر منانے کے آغاز 2004ء میں ہوا جب اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر امور جموں کشمیر و گلگلت بلتستان آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے یہ دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانچ فروری 2004ء کو وزیر اعظم جمالی نے مظفر آباد میں پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ تب سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ہر سال اسی دن یہ مشترکہ اجلاس منعقد ہوتا ہے اور وزیر اعظم پاکستان یا ان کا نامزد نمائندہ اس اجلاس میں ضرور شامل ہوتا ہے۔ عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت مقبوضہ علاقے کے مظلوم عوام کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزائی کا باعث رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم کو بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ تنظیم کے چیئرمین عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ پاکستان کی انتھک کوششوں کی وجہ سے ہی تنازعہ کشمیر دنیا کے ہر فورم پر گونج رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ پاکستان مقبوضہ جموں کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے گا۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے ترجمان نے بھارت کی خود ساختہ مردم شماری 2024 کومسترد کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے ذاتی معاملات میں بے جا مداخلت قرار دیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ مردم شماری بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جن میں اپنی سرزمین پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف کشمیری عوام کے مزاحمت کے حق کو تسلیم گیا ہے۔ ترجمان نے تاریخی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں 1947سے بھارت کے اقدامات خاص طور پر اس کا جبر اور غیر قانونی قبضہ ناقابل قبول ہے۔

Back to top button