بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

شراکت پارٹنر شپ کا مشن پاکستان میں پر امن معاشرے کے قیام کے لئے بہترین قدم ہے

شراکت پارٹنر شپ کا مشن پاکستان میں پر امن معاشرے کے قیام کے لئے بہترین قدم ہے جہاں سب افراد معاشرہ اپنے انسانی حقوق کا استعمال کر سکیں شراکت پاکستان میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ہے جو پائیدار معاش کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے پر یقین رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار شراکت پارٹنر شپ فار ڈویلپمنٹ کی پروگرام مینیجر ثمینہ جاوید نے راولپنڈی پریس کلب میں برٹش ایشین ٹرسٹ کے ذریعے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فانڈیشن کے تعاون سے منعقد ہونے والی ایک تقریب کے شرکا سے خطاب کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ شراکت کا مشن معاشی بحالی جدت اور باہمی تعاون کے ذریعے خواتین و نوجوانوں کی ترقی ،منصافانہ اور روادارمعاشرے کا قیام ہیشراکت پراجیکٹ کو آرڈینیٹر شازیہ مشتاق نے پر اجیکٹ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔ کو وڈ 19 کے وبائی مرض نے ترقی کی رفتار پر تباہ کن اثر ڈالا جس میں ملازمتوں اور کاروبار کے مواقع ختم ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ۔

 

پاکستان کے زرعی شعبہ میں %72 دیہی خواتین مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں ۔ مگر صنفی عدم مساوات ہنر وسائل کی عدم موجودگی اور کم علمی منڈیوں تک ان کی رسائی کو محدود کرتی ہے اور غربت کے خطرے کو بڑھا کر معاشی بہتری میں رکاوٹ بنتی ہے دیہی علاقوں میں معاش اور خوراک کے حصول کو بہتر بنانے کے لیے شراکت کی کاوش کمیونٹیز کی بحالی اور غربت کے تباہ کن نتائج کوروکنے میں اہم ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ برٹش ایشین ٹرسٹ کے توسط سے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی مالی معاونت سے ، شراکت نے خواتین اور نوجوانوں کے لیے کوآپریٹو اور زرعی ویلیو چین کے ذریعے پائیدار معاش پر توجہ مرکوز کی اور کاروباری مفاداتی گروپ قائم کیے گئے۔ جس میں راولپنڈی، اسلام آباد میں 60، مظفر گڑھ میں 40 اور شیخوپورہمیں 20 بزنس گروپس بنائے گئے اس منصوبے نے غیر مراعات یافتہ طبقہ کے 600افراد کو کامیابی سے بااختیار بنا کر سبزیوں اورپھلوں کو سورج کی روشنی میں سولر ڈرائر کے ذریعے خشک کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کا ہنر سیکھایا انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ نے تکنیکی اور کاروباری مہارتوں کی فراہمی کے ذریعے زرعی شعبے کو سپورٹ کرنے پر توجہ مرکوز کی جس میںمارکیٹوں سے اہم روابط کاروبار اور خواندگی کی مہارتوں تک رسائی میں مدد ملتی ہے جو مستقبل میں ترقی کا پیش خیمہ ہے انہوں نے کہا کہ صرف مہارتیں پسماندہ لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے کافی نہیں بلکہ مارکیٹ اوروسیع وسائل، خاص طور پر مالی امداد کا حصول اور روابط کو یقینی بنانا پائیدار ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔

مزید پڑھیے  اعظم سواتی کی ویڈیو لیک معاملہ، سپریم کورٹ نے سینیٹر کی ججز ریسٹ ہائوس میں قیام کی تردیدکردی
Back to top button