بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

غیر متعدی بیماریوں میں کمی کے لیے میڈیا ایک اہم کردار سکتاہے، مائرین صحت

 پاکستان میں خوراک سے متعلق غیر متعدی امراض تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں 2100سے زیادہ اموات روزانہ کا باعث بننے والی غیر متعدی بیماریوں میں خوراک کا ایک اہم کرادار ہے۔ میٹھے مشروبات اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں، ذیابیطس، موٹاپا اور دیگر غیر متعدی امراض میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ الٹرا پروسیسڈ فوڈز میں اس قسم کے کھانے آتے ہیں جو پروسیسنگ کے متعدد مراحل سے گزرتے ہیں جن میں اکثر صنعتی طریقوں کا استعمال اور مختلف اجزاء جیسے پریزرویٹوز،، رنگ، ایملسیفائر اور ذائقے شامل ہوتے ہیں۔ ان کھانوں میں چینی، نمک یا ٹرانس فیٹس کی مقدار ضرورت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بیماریوں کی اس بڑھتی ہوئی تشویش صورت حال پر بات کرے ہوئے ماہرین صحت نے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے زیر اہتمام مری کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک میڈیا ورکشاپ کے دوران بتایا کہ دنیا بھر سے ثابت شدہ پالیسیوں پر عمل درآمد کرکہ جیسے کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈز اور میٹھے مشروبات پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ان کی کھپت کو کم کرنا ضروری ہے۔ حکومت پاکستان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ صحت عامہ کے تحفظ کے لیے تمام میٹھے مشروبات اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں میں ڈائریکٹر نیوٹریشن اینڈ این ایف اے وزارت صحت ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد، سابق چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ محترمہ افشاں تحسین باجوہ، گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کے کنسلٹنٹ جناب منور حسین، اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے سینئر صحافی شامل تھے۔ جنرل سیکرٹری PANAH جناب ثناء اللہ گھمن نے تقریب کی میزبانی کی۔
ڈاکٹر خواجہ مسعود احمد نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے ساتھ زندہ رہنے والے لوگوں کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے جہاں 3کروڑ 30لاکھ سے زیادہ لوگ زیابیطس کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ لوگ ابتدائی درجے کی زیابیطس میں مبتلاء ہیں اور جس رفتار سے زیابیطس کے مرض میں اضافہ ہو رہا ہے اس میں پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہااگر فوری پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو 2045 تک ذیابیطس کے ساتھ رہنے والے افراد کی تعداد تک 6 کروڑ 20لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اپنی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے ایک متوازن غذا کا استعمال کیا جانا چاہیے جس میں غیر صحت بخش میٹھے مشروبات اور الٹرا پراسیسڈ فوڈز موجود نہ ہوں اور پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کیا جائے۔
منور حسین نے کہا کہ غیر متعدی امراض عالمی سطح پر اور پاکستان میں اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ غیر صحت بخش غذا کا زیادہ استعمال جیسے الٹرا پروسیسڈ فوڈز اورچینی کا زیادہ استعمال ان اموات کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔ میٹھے مشروبات خوراک میں چینی کی مقدار کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں جن کے ایک چھوٹے گلاس میں 7سے9چمچ چینی موجود ہوتی ہے۔ ہمیں الٹرا پروسیسڈ فوڈز اور میٹھے مشروبات کی کھپت کو کم کرنے اور صحت بخش غذاؤں، پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو بڑھانے کے لیے فوری طور پر پالیسی ایکشن کی ضرورت ہے۔ ثابت شدہ پالیسی ایکشن جسے دنیا کے بہت سے ممالک نے کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے ان اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ ہے۔
اس سے نہ صرف ان کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو اضافی ریونیو بھی ملے گا۔ اس ریوینیو کو صحت عامہ کے پروگراموں کے لیے مختص کرنے اور صحت بخش کھانوں پر سبسڈی دینے سے صحت عامہ کو دوہرا فائدہ ملے گا۔ ”تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ non-sugar sweetnersبھی چینی ہی کی طرح نقصاندہ ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فنانس بل 2024-25 میں تمام میٹھے مشروبات اور الٹرا پراسیسڈ فوڈذ پر ٹیکس بڑھایا جائے۔
افشاں تحسین باجوہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بچوں میں الٹرا پروسیسڈ فوڈز اومیٹھے مشروبات کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جو پاکستان کے مستقبل کو بیمار بنا رہا ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 2011 سے 2018 تک بچوں میں موٹاپا دوگنا ہو گیا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک قومی سطع کے مکالمے کی ضرورت ہے اور ہمارے ملک کے مستقبل کو بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو بروئے کار لانا چاہیے۔
ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ کئی دہائیوں سے PANAH اپنے ہم وطنوں کو صحت عامہ کے لیے صحت بخش غذاؤں کے استعمال کے لیے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔آگائی کے ساتھ ساتھ، PANAH غیر صحت بخش کھانے کی اشیاء کے استعمال کو کم کرنے کے لیے موئثر پالیسیز بنوانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے تاکہ دل، ذیابیطس اور دیگر بہت سی مہلک بیماریوں میں کمی آئے۔ میڈیا ہمارا مضبوط اتحادی پارٹنر ہے جو ہمارے پیغام کو پالیسی سازوں اور فیصلہ سازوں تک پہنچاتا ہے۔ آپ نہ صرف عوام کو آگائی دینے کا سب سے موئثر ادارہ ہیں بلکہ قانون ساز اداروں کو بھی آپ قائل کر سکتے ہیں۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ صحت عامہ کے مقصد کو فروغ دینے کے لیے ہمار ا ساتھ دیں اور فنانس بل 2024-25 میں میٹھے مشروبات اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز پر زیادہ ٹیکس لگانے کا مطالبہ کریں اور اس سے حاصل ہونے والے ریوینیو کو عوامی صحت کو فروغ دینے کے لیے مختص کیا جائے۔

Back to top button