بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

پولٹری کے کاروبار سے وابستہ سپلائرز، پرچون فروشوں اور آڑھتیوں کی نمائندہ 3 بڑی تنظیموں کی ہڑتال دوسرے روز میں داخل

 جڑواں شہروں میں چکن کا بحران شدت اختیار کرنے لگا

حکومت کے ساتھ چکن کی قیمتوں کے تعین کے تنازعہ پر پولٹری کے کاروبار سے وابستہ سپلائرز، پرچون فروشوں اور آڑھتیوں کی نمائندہ 3 بڑی تنظیموں کی ہڑتال دوسرے روز میں داخل ہوگئی جس سے جڑواں شہروں میں چکن کا بحران شدت اختیار کرنے لگا۔

راولپنڈی کی پولٹری آڑھت ایسوسی ایشن، پولٹری سپلائرز ایسوسی ایشن اور پولٹری ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت اور انتظامیہ نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو تمام تنظیمیں مل کر جمعرات نئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی نمائندہ تنظیموں نے راولپنڈی اور اس کے جڑواں شہر اسلام آباد میں پنجاب بھر کے ساتھ پولٹری کے یکساں نرخوں کے نفاذ کی انتظامی پالیسی پر ایک مرتبہ پھر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز جڑواں شہروں میں مکمل شٹر ڈاون کر کے مرغی منڈی باغ سرداراں میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں بڑی تعداد میں آڑھتیوں ، سپلائرز اور جڑواں شہروں کے پرچون فروشوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر آڑھت ایسوسی ایشن کے صدر ملک غضنفر نے کہا کہ آڑھت ایسوسی ایشن جائز مطالبات پر سپلائرز اور ریٹیلرز کے ساتھ کھڑی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سپلائرز سرگودھا سے 28 ہزار روپے کرایہ خرچ کر کے یہاں آکر سرگودھا کے ریٹ پر اپنی مرغی فروخت کرے۔ انہوں نے کہا کہ منڈیاں ہمیشہ اوپن بولی اور آکشن کے تحت کام کرتی ہیں کسی بھی دکاندار کو فارم ریٹ پر مرغی فروخت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

پولٹری سپلائرز ایسوسی کے صدر راجہ وقاص عباسی نے کہا کہ جڑواں شہروں میں مٹن کی قیمت تو 1800 روپے سے بڑھا کر 1950 روپے مقرر کردی گئی ہے حالانکہ چکن کی قیمتیں 450 روپے کلو سے کم ہو کر دوبارہ 330 روپے کلو تک آگئی ہیں انہوں نے کہا کہ پولٹری کے کاروبار سے وابستہ افراد 10 دن میں کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرچکے ہیں جن میں مزید نقصان برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروبار سے جڑواں شہروں میں 30 ہزار سے زائد خاندانوں کا رزق وابستہ ہے اور حکومتی پالیسی ان لاکھوں افراد کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ اگر حکومت یا انتظامیہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہیں کرتی تو تمام تنظیمیں آج نئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔

ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ظہیر عباس عباسی نے کہا کہ جب تک پولٹری کی صنعت سے وابستہ تاجر خود ریٹ طے کرتا تھا تب تک چکن کی قیمتیں کنٹرول میں تھیں حکومت اور بیوروکریسی کی بلاجواز مداخلت کے بعد چکن کی قیمتوں میں بتدریج تیزی آئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرغی منڈی کے معاملات طلب اور رسد کے تناسب سے اوپن چھوڑے جائیں کیونکہ منڈیاں ہمیشہ اپنی جگہ خد بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی طور مہنگا چکن فروخت نہیں کرنا چاہتے ہمارے منافع کی شرح یکساں رہتی ہے۔ حکومت کم سے کم منافع کے ساتھ ہمارے اخراجات پورے کردے اس سے آگے ہمارا کوئی مطالبہ نہیں۔

دیگر مقررین نے کہا کہ پنجاب کے برابر چکن کا ایک ریٹ مقرر کرنے کے لئے انتظامیہ مسلسل دبا ڈال رہی ہے اور نئے فارمولے کے تحت برائلر فارمرز ایسوسی ایشن کے ذریعے ریٹ جاری کرنا چاہتی ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں فکس بنیادوں پر منافع کی یکساں شرح لاگو کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ راولپنڈی یا اس کے قرب وجوار میں چکن کی کوئی پیداوار یا فارمنگ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں چکن سرگودھا، منڈی بہاوالدین اور گوجرانولہ سمیت دیگر دور دراز اضلاع سے آتا ہے جس پر اوسطا 25 سے 40 روپے فی کلو لاگت آتی ہے اس طرح 40 روپے کے اخراجات برداشت کرنے کے بعد 10 یا 12 روپے کلو پر منافع سراسر مذاق ہے۔

Back to top button