بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

محکمہ خوراک کی آبادی کے حساب سے گندم فراہم کرنے کی ‘مبہم’ پالیسی مسترد کرتے ہوئے پنجاب کے آٹا چکی (فلور ملز) مالکان نے 5 روز کے لیے محکمے کے ذخیروں سے اپنا اناج کا کوٹہ نہ اٹھانے کی دھمکی دی ہے، جسے ان کے احتجاج کا پہلا مرحلہ بھی کہا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کی کال کے باعث بازار میں خریدو فروخت میں افرا تفری پیش آسکتی ہے اور فراہمی کا خلا آٹے کا بحران پیدا کرسکتا ہے جس کی وجہ سے صوبائی محکمہ خوراک کے پر ملز مالکان کی شرائط ماننے کے لیے دباؤ پڑے گا۔

پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ‘آبادی کی بنیاد پر گندم جاری کرنے کی پالیسی مبہم ہے جس کی وجہ سے صنعت میں تشویش پیدا ہوگئی ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘تین سو سے زائد ملز مالکان کے ہنگامی اجلاس میں پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی مارکیٹ کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لینے کے باعث صوبائی حکومت کے ساتھ (آٹےکی سپلائی) کا معاہدہ کیا جائے گا نہ ہی محکمے کے ذخیرہ سے پانچ روز تک گندم اٹھائیں گے’۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے 5 روز میں پالیسی پر نظرِ ثانی نہیں کی تو وہ احتجاج کا اگلا لائحہ عمل طے کریں گے جس میں ملز کی بندش بھی شامل ہو گی۔

عاصم رضا کا کہنا تھا کہ فوری طور پر آٹے کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور گندم کی مارکیٹ تاحال مستحکم رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں نہ صرف ان کے آٹا پیسنے کی قیمت 600 سے کم کر کے 400 روپے فی 100 کلو گرام کردی گئی ہے بلکہ آٹے سے دیگر مصنوعات (میدہ، سوجی) نکالنے کی شرح بھی تبدیل کی گئی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ مارکیٹ میں آٹے کی فائن (میدہ) قسم کی قلت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے ایک سوال پوچھنے والے کو بتایا کہ آئندہ پانچ روز تک ملز اوپن مارکیٹ سے گندم خرید کر پیسیں گی اور مارکیٹ میں آٹے کی فراہمی جاری رکھیں گی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ صنعت کے پاس کم از کم 8 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ 4 لاکھ ٹن گندم اوپن مارکیٹ میں موجود ہے جبکہ گندم کی روزانہ کھپت 20 سے 22 ہزار ٹن ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمے کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 16 ہزار 200 ٹن گندم فراہم کی جاتی ہے جو صارفین کی طلب پوری نہیں کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button