بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

وزیراعظم عمران خان کی انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت

میں اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے پروٹو ٹائپ الیکٹرانک ووٹنگ مشین

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات حکومت اپوزیشن کی نہیں، جمہوریت کے مستقبل کی بات ہے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مالی سال 22-2021 کے بجٹ کی منظوری میں کردار ادا کرنے پر اپنی پارلیمانی پارٹی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں.

انہوں نے کہا کہ اپنی بجٹ تقریر شروع کرنے سے قبل اپوزیشن کو اس موضوع پر بات کرنے کی دعوت دینا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں 1970 کی دہائی کے بعد سے تمام انتخابات متنازع رہے اور ابھی بھی سینیٹ کے انتخابات اور ضمنی الیکشن میں تنازع کا شکار رہے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 2 برس میں ہم نے بہت کوشش کی کہ اس ضمن میں کیا اصلاحات کی جاسکتی ہیں کہ جو بھی الیکشن ہارے اس نتیجے کو قبول کرے، ہم نے اس سلسلے میں تجاویز بھی دی ہیں لیکن ابھی تک ان پر اپوزیشن کی بحث نہیں ہوئی.

انہوں نے کہا کہ میں درخواست کروں گا کہ یہ حکومت و اپوزیشن کی بات نہیں ہے یہ پاکستان کی جمہوریت کا مستقبل ہے عمران خان نے کہا کہ اپنی زندگی کے 21 سال میں بین الاقوامی کرکٹ کھیل کر گزارے تو میں اپنا تجربہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے تو ملک اپنے اپنے امپائر کھڑے کرتے تھے اور جو ہارتا تھا وہ کہتا تھا کہ امپائروں نے ہمیں ہرادیا لیکن پاکستان وہ ملک تھا جس نے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبی نیوٹرل امپائر کھڑے کیے تھے اور اب یہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے.

وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہم الیکشن لڑیں اور کسی کو یہ فکر نا ہو کہ دھاندلی سے ہرادیا جائے گا انہوں نے کہا کہ پہلے دن جب میں قومی اسمبلی میں تقریر کرنے کھڑا ہوا تھا تو اپوزیشن نے تقریر نہیں کرنے دی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے، اگر الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تے تو انہیں بتانا چاہیے تھا کہ کیسے ٹھیک نہیں ہوئے.

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تو ان کے میڈیا اور عوام نے کہا کہ اس بات کا ثبوت دیں انہوں نے کہا کہ جب 2013 میں ہم نے کہا تھا کہ الیکشن درست نہیں ہوئے تو 133 میں سے 4 حلقوں کا مطالبہ کیا تھا کہ ان کا آڈٹ کیا جائے لیکن ان 4 حلقوں کو نہیں کھولا گیا تھا جس کے بعد 2 سے اڑھائی سال بعد کیس لڑکر ہم نے وہ حلقے کھلوائے اور نتائج میں دھاندلی پائی گئی تھی.

عمران خان نے کہا کہ میں اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے پروٹو ٹائپ الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) کیونکہ جب ووٹنگ ختم ہوتی ہے تو بٹن دباتے ہی نتائج فوراً سامنے آجاتے ہیں، اس طرح ڈبل اسٹامپس، تھیلیاں کھلے ہونے کے مسائل ختم ہوتے ہیں اور جو بھی اعتراض کرنا چاہے وہ اٹھاسکتا ہے. وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس کوئی اور تجویز ہے تو ہم وہ سننے کے لیے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ اگر اصلاحات نہیں کی جائیں گی تو یہ مسئلہ ہر الیکشن میں آئے گا جیسا کہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں ہوا انہوں نے کہاکہ بجٹ 22-2021 سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ میں شوکت ترین اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے میری وڑن کے مطابق بجٹ تیار کیا.

انہوں نے کہا کہ تین اصولوں انصاف ،انسانیت اور خودداری پر پارٹی بنائی تھی جب ہماری حکومت آئی تو سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا تھا ہم نے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے مشکل اقدامات اٹھائے اور مشکل فیصلے کیے. انہوں نے کہا کہ جب ملک مقروض ہو جائے تو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں ہماری معاشی ٹیم کے فیصلوں سے معاشی چیلنجز سے نکلے مشکل وقت میں سعودی عرب اور چین نے ہماری مدد کی اور ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچایا.

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے پوری کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے پا س نہ جانا پڑے لیکن دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑاوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس چیلنج سے نکل ہی رہے تھے کہ کورونا وائرس آگیا انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا‘ کورونا کے د وران اسد عمر کی ٹیم نے نمایاں کارکردگی دکھائی اور پاک فوج نے بھی ہماری مدد کی.

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کورونا کے د وران بچایا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ مکمل لاک ڈاﺅن نہیں لگائیں گے کیونکہ لاک ڈاﺅن کے د وران کمزور طبقہ پس جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جہاں جہاں لاک ڈاﺅن لگا وہاں غربت میں اضافہ ہوا ہمارے ہاں اپوزیشن نے مکمل لاک ڈاﺅن لگانے کے لیے زور دیا اور حکومت پر تنقید بھی کی مگر ہم ثابت قدم رہے.

وزیراعظم کے خطاب کے دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف، چیئرمین پیپلز بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری‘ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف، احسن اقبال اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) اسلام کے رہنما مولانا اسعد محمود سمیت اپوزیشن قیادت اسمبلی میں موجود نہیں قومی اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن راہنماﺅں میں سے رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق اور سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف عمران خان کے خطاب کے دوران ایوان میں موجود ہیں.

یہ بھی پڑھیے

Back to top button