بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

 وزیر اعظم عمران خان 178ووٹ لیکر اعتماد کا ووٹ حاصل کر نے میں کامیاب

وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے 178ووٹ حاصل کیے جبکہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر انہیں 176 ووٹ ملے تھے اس طرح انہوں نے پہلے کے مقابلے میں 2 اضافی ووٹ لیے۔ہفتہ کواسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ہوا ۔وزیراعظم عمران خان، حکومت اور اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ق لیگ سمیت 180 سے زائد ممبران اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ حزب اختلاف کے اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔وزیر اعظم کے اسمبلی ہال پہنچنے پر پی ٹی آئی اراکین نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے وزیرا علی سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلی گیلری میں موجود تھے جبکہ اپوزیشن کے محسن داوڑ اور مولانا عبدالاکبر چترالی ایوان میں موجود رہے۔ غلام بی بی بھروانہ، عامر لیاقت اور باسط بخاری بھی قومی اسمبلی میں موجود تھے۔تلاوت کلام پاک کے بعد اسمبلی میں قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ جس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد پیش کی۔قرارداد کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے سے متعلق طریقہ کار بتایا۔ اسپیکر کی ہدایت کے بعد ایوان میں پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کی حمایت والے ارکان کو دائیں جانب جانے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد وزیر اعظم پر اعتماد کے لیے اراکین لابی میں چلے گئے۔ رہنما پی ٹی آئی عامر ڈوگر نے اراکین کی نگرانی کی۔اراکین کی جانب سے ووٹ کا اندراج مکمل ہونے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگر کوئی رکن رہ گیا ہے تو وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر لیے۔ جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے ووٹوں کی گنتی کی ہدایت کی اور اراکین اپنی نشستوں پر واپس آنا شروع ہو گئے۔اجلاس شروع ہونے سے قبل حکومتی اراکین نے اپوزیشن کی نشستوں پر نوٹوں کے ہار رکھ دیے تھے جبکہ اپوزیشن نشستوں پر آصف زرداری اور نواز شریف کی تصاویر چپکا دی گئیں۔ محسن داوڑ کی جانب سے اپوزیشن سیٹوں پر لگائے گئے بینرز ہٹائے گئے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن رکن محسن داوڑ سے وزیر اعظم کو ووٹ دینے کی درخواست کی۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیا۔فیصل واڈا بھی ایوان کے بجائے مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے اور استعفی کے باعث وہ ووٹ نہیں ڈال سکے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی بھی اجلاس کی صدارت کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button