بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

سی سی پی نے آم کی برآمد کے لئے لازمی انڈیمنیٹی بانڈ جمع کرانے کے معاملے میں آرڈر جاری کردیا۔


کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے ایک آرڈر جاری کرتے ہوئے آم کے برآمد کنندگان کے لئے غیر ملکی ائیر لائنز کو لازمی انڈیمنیٹی بانڈ جمع کرانے کی لازمی شرط کے اہم مسئلہ کو حل کردیا ہے جس سے پاکستان سے آموں کی برآمد میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ 

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کو آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ،امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن،  ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ،امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن  اور ایئر کارگو ایجنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے پا کستان میں کام کرنے والی غیر ملکی ائیر لائنز ، جیسا کہ ایمیریٹس ائیر لائن،قطر ائیر ویز، اومان ایئر، ترکش ایئر ویز اور اتحاد ایئر ویز،  کے خلاف شکایت موصول ہوئی تھی کہ وہ کمپیٹیشن ایکٹ کے سیکشن 3کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں ۔

شکایت کنند گان کے مطابق یہ ایئر لائنز پاکستانی آم کی بیرون ملک برآمد پر زیادہ قیمت وصول کررہی ہیں جبکہ ہمسایہ ملک بھارت سے وہ پاکستان سے بھی کم قیمت وصول کر رہیں حالانکہ انہی مقامات کا بھارت سے فاصلہ پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ایئر لائن نے  برآمد کنندگان کو لازمی انڈیمنیٹی بانڈ جمع کرانے کا بھی پابند کیا ہوا ہے جس سے ٹرانزٹ اور ہینڈلنگ کے دوران اور ڈیلیوری میں تاخیر یا نقصان ہونے کی صورت میں ان ائیر لائن نے اپنے آپ کو برآمدکنندگان کو ہرجانہ دینے سے جبری استثناء حاصل کیا ہوا ہے اور یہ لازمی انڈیمنیٹی بانڈ متحدہ عرب امارات ، یورپ اور دوسرے ممالک کو آم کی بر آمد میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ 

سی سی پی کی جانب سے کی گئی انکوائری سے ظاہر ہوا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں جاری عام پریکٹس کے بر خلاف تمام ایئر لائنز (ماسوائے ترکش ) نے پاکستان آم برآمدکنندگان کو لازمی انڈیمنیٹی بانڈ جمع کرانے کا پابند کیا ہوا ہے جس سے کسی نقصان ہونے کی صورت میں زمہ داری لینے کی بجائے انہوں نے اپنا آپ محفوظ کر لیا ہے ۔ 

سی سی پی بنچ کو شکایت کنندگان کی جانب سے بتایا گیا کہ کمیشن کی جانب سے انکوائری کی شروعات کے بعد ان ائیر لائنز نے لازمی انڈیمنیٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط ختم کر دی  ۔ جس سے یہ ایئر لائنز کسی نقصان کی صورت میں اب زمہ دار ہوں گی ۔یہ اہم معاملہ پچھلے پندرہ سال سے زیر التواء تھا اور اس دوران بہت سے برآمد کنندگان نے نقصان کے بعد اپنے کاروبار بند کردیے۔ 

سی سی پی آرڈر کے مطابق انکوائری کے دوران ہی شکایت کنند گان کی اہم شکایت کا ازالہ ہو چکا ہے اس لئے اس معاملے پر مذید کاروائی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ 

سی سی پی کو کمپیٹیشن ایکٹ کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صارفین اور کاروباری اداروں کو بالادستی کے غلط استعال اور کمپیٹیشن مخالف سر گرمیوں سے بچائو کے لیے اقدامات کرے۔  

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button