دنیا بھر میں کشمیری آج یومِ شہدائے جموں منا رہے ہیں

کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ شہدائے جموں منا رہے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد شہدائے جموں کے مشن کو جاری رکھنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔

6 نومبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ افواج، بھارتی فوجیوں اور ہندو انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں جموں کے مختلف علاقوں میں لاکھوں کشمیریوں کے قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ کشمیری نومبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کی جانب ہجرت کر رہے تھے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے 1947 کے سانحہ جموں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور اسے کشمیر کی تاریخ کے تاریک ترین اور المناک واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

سرینگر سے جاری بیانات میں حریت رہنماؤں نے اس قتلِ عام کو نسل کشی اور نسلی تطہیر کی ایک سنگین مثال قرار دیا۔

حریت رہنماؤں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ جموں کا قتلِ عام ایک منظم سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد جموں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔

حریت قیادت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کے مسلسل قتل کے واقعات کا نوٹس لے۔

↑
Exit mobile version