صدر مملکت آصف علی زرداری نے رابطہ کاری اور مقامی آبادی کے روزگار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیٹی بندر پورٹ کی مربوط ترقی پر زور دیا ہے۔
وہ اسلام آباد میں چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی (CHEC) کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ کی مجوزہ ترقی کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔
صدر مملکت نے کہا کہ منصوبے کے لیے قابلِ اعتماد سڑکوں کا نظام، بجلی اور پانی کی فراہمی، صنعتی انفراسٹرکچر اور دیگر ضروری سہولیات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کے انفراسٹرکچر اور بحری ترقی میں چین کی مسلسل دلچسپی کو سراہا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ کیٹی بندر پاکستان کے لیے ایک اضافی بحری گیٹ وے کے طور پر اہم صلاحیت رکھتا ہے، جو ملک کے بندرگاہی اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے ساتھ رابطہ کاری اور تجارت کے فروغ میں مدد دے سکتا ہے۔
صدر نے چینی فریق اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان قریبی تکنیکی رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ماحولیاتی پائیداری کو منصوبے میں اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے سندھ ڈیلٹا کے حساس ماحولیاتی نظام اور مقامی ماہی گیر برادریوں کے مفادات اور روزگار کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔
چینی وفد نے کیٹی بندر پورٹ کے مجوزہ کانسیپچوئل ماسٹر پلان پر بریفنگ دی، جس میں ایک نئی گہری پانی کی بندرگاہ، متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس اور معاون انفراسٹرکچر شامل ہے۔
مجوزہ پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل کوے کے ساتھ ملٹی پرپز ٹرمینل کی تعمیر شامل ہے، جس کی ابتدائی انجینئرنگ لاگت کا تخمینہ تقریباً 52 کروڑ 23 لاکھ 40 ہزار ڈالر لگایا گیا ہے۔
