سپریم کورٹ کے حکم پر پی ٹی آئی بانی کا طبی معائنہ مکمل کرایا گیا: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کا عدالتی حکم کے مطابق طبی معائنہ کرایا گیا، جبکہ ان کی بہن بھی اس موقع پر موجود تھیں اور تمام متعلقہ تقاضے پورے کیے گئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل کیا اور قوم کو حقائق سے شفاف انداز میں آگاہ رکھا۔

عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی، پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے معاملے پر غلط پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ صحت کے معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ قانونی اور طبی معاملات کو سیاسی بنانے سے گریز کرے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کے دوران پی ٹی آئی کے بانی کی جانب سے دیگر افراد کی صحت کے حوالے سے دیے گئے بیانات بھی سب کے سامنے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت نے اپنی نظرثانی درخواست میں تمام قیدیوں کو یکساں سہولیات فراہم کرنے اور کسی کو خصوصی رعایت دینے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ شفَا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر لوگوں کو جمع کرکے سکیورٹی خدشات پیدا کرنے اور سیاسی بیانات دینے سے معاملے کو سیاسی رنگ کس نے دیا، جبکہ عدالت نے ہسپتال کے اطراف سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد سے متعلق ہدایات دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ قانونی اور طبی معاملات کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی کے بانی کی طبی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹرز ہی بہترین افراد ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے کبھی پی ٹی آئی کے بانی کے علاج کو نہیں روکا اور ضرورت پڑنے پر انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے ان بیانات کا بھی خیرمقدم کیا جن میں انہوں نے بعض ارکان کی جانب سے انفرادی حیثیت میں دیے گئے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بار کے پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

Exit mobile version