دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیجی بحرانوں کے حل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مل کر مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے، امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے اور تمام زیرِ التوا مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان براہِ راست اور بالواسطہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے امن کی کوششوں کو متاثر کرنے والے عناصر کا مقابلہ جاری رکھے گا اور تعمیری مذاکرات کے تسلسل کو ممکن بنائے گا۔
بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حملے سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری راستوں میں آزادانہ نقل و حرکت اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ میری ٹائم کولیشن کا دستخط کنندہ ہے اور عالمی سپلائی چین اور بحری ٹریفک کی حفاظت و سلامتی کے لیے اعلامیے پر عملدرآمد میں سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کی معاونت کے لیے تیار ہے۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور رکن ممالک کو درپیش خطرات اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستانی عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔
آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان پر طاہر اندرابی نے اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حالیہ پیش رفت کو بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور سیاسی رنگ دینا گمراہ کن ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے بانیوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرے۔
