وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا باقاعدہ اجرا کر دیا، جس کا مقصد نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔
اسلام آباد میں پالیسی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پالیسی کے تحت لیبر فورس میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کے لیے سالانہ کوٹے کا 10 فیصد اسٹارٹ اپس کے لیے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ میرٹ کی بنیاد پر ایک ہزار طلبہ و طالبات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے چین بھیجا جائے گا، جبکہ اس تربیت کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
وزیراعظم کے مطابق اب تک باصلاحیت طلبہ میں 7 لاکھ لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رواں سال اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں 2 لاکھ 50 ہزار کروم بکس تقسیم کیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ مستحق طلبہ کو ایچی سن کالج کے معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں دانش اسکولز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں نئی دانش یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا، جہاں اگلے سال سے کلاسز شروع ہونے کی توقع ہے۔ یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی، فنی تعلیم اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دانش یونیورسٹی میں داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے اور طلبہ کے مالی پس منظر کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا۔
تقریب کے موقع پر وزیراعظم نے نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام اور اسکلز ایمبیسیڈر پروگرام کا بھی اجرا کیا۔
