وزیراعظم شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا، جبکہ پاکستان اور ایران نے سرحدی تجارت کے فروغ، معدنیات کے شعبے میں تعاون اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق رائے بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کی سربراہی میں چھ رکنی ایرانی وفد کی ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے سرحدی تجارت کو فروغ دینے کے لیے سرحدی سہولیات بہتر بنانے، سرحدی گزرگاہوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے، لاجسٹکس کے نظام کو مضبوط بنانے اور کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔
فریقین نے معدنیات کے شعبے، بالخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور خطے میں امن کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے فروغ اور پاکستان ایران تعلقات، خصوصاً تجارت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کو مسلسل کوششوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص خوراک اور زرعی اجناس کی تجارت میں اضافہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ایرانی وزیر سید محمد اتابک نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کے حوالے سے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔
