مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران 21 کشمیری شہید

بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں 1990 کے پٹن قتلِ عام کی دردناک یادیں 36 برس گزرنے کے باوجود آج بھی متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والوں کے دلوں میں تازہ ہیں، جبکہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو تاحال انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔

کشمیر میڈیا سروس (KMS) کے مطابق یکم اگست 1990 کو بارہمولہ ضلع کے مصروف پٹن بازار میں بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم 12 بے گناہ کشمیری شہید جبکہ 82 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اس روز بھارتی فوج کا ایک قافلہ بارہمولہ سے سرینگر جا رہا تھا کہ پٹن کے قریب سڑک کی خراب حالت کے باعث ایک فوجی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔ فوجیوں نے آواز کو حملہ سمجھتے ہوئے کئی منٹ تک بلااشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ شہری نشانہ بنے۔

دریں اثنا، کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فورسز نے رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز اور دیگر اداروں نے 4 ہزار 650 شہریوں کو گرفتار کیا، جن میں نوجوان، طلبہ اور خواتین بھی شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج کی طاقت کے استعمال سے کم از کم 50 کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

ادھر ضلع کولگام کے علاقے کیلام میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو غیر مقامی افراد ہلاک ہوگئے۔

Exit mobile version