پاکستان کے سات شہروں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار، میڈیا سے بھرپور آگاہی پھیلانے کی اپیل

پاکستان کے سات شہروں کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں 12 سے 36 ماہ عمر کے تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے (لیڈ) کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی ہے، جبکہ کراچی میں بھی تقریباً 39 فیصد بچے اس خطرناک دھات سے متاثر پائے گئے ہیں۔ ماہرین صحت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں میں سیسے کی آلودگی، اس کے ذرائع اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے تاکہ والدین میں آگاہی پیدا ہو اور متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کر سکیں۔

یہ بات لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ (LEEP) پاکستان، یونیسیف پاکستان اور کامزمین کنسلٹنٹس کے اشتراک سے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک روزہ صحافتی تربیتی ورکشاپ کے مقررین نے کہی۔ ورکشاپ میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد صحت اور ماحولیات کے صحافیوں نے شرکت کی، جہاں بچوں میں سیسے کی آلودگی سے متعلق تازہ تحقیقی نتائج، اس کے بڑے ذرائع اور اس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یونیسیف پاکستان کی ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر حمیرا ارشاد نے پاکستان چائلڈ ہُڈ لیڈ ایکسپوژر سروے کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سات زیادہ خطرے والے شہروں میں 12 سے 36 ماہ عمر کے 2 ہزار 175 بچوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ تھی، جبکہ کراچی کے منتخب علاقوں میں یہ شرح تقریباً 39 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سروے صرف زیادہ خطرے والے شہری علاقوں میں کیا گیا تھا اور اس کے نتائج پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے، اس لیے ملک میں مسئلے کی اصل شدت جاننے کے لیے قومی سطح پر سروے کرانے کی ضرورت ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر فاطمی نے کہا کہ سیسے کی آلودگی بچوں کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جس کا اکثر والدین کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ سیسے کی معمولی مقدار بھی بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، سیکھنے کی صلاحیت اور مجموعی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس مسئلے میں علاج سے زیادہ اہمیت بچاؤ کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچے زیادہ تر سیسہ ملے آرائشی رنگ، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات، سرمہ اور غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ کے ذریعے سیسے کی زد میں آتے ہیں اور ان ذرائع پر قابو پا کر بڑی حد تک بچوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ پاکستان کے کنٹری ہیڈ عابد حسن نے کہا کہ پاکستان میں خون میں سیسے کی مقدار اور اس کے اصل ذرائع معلوم کرنے کے لیے قومی سطح پر نمائندہ سروے ناگزیر ہے تاکہ اس کی بنیاد پر صحت، ماحولیات، صنعت اور خوراک سے متعلق ادارے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار ایسے سروے کے لیے تعاون پر آمادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لیپ پاکستان اس وقت بچوں میں سیسے کی آلودگی کے تین بڑے ذرائع، یعنی آرائشی رنگ، سرمہ اور سیسہ ملی ہلدی کے خاتمے پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں آرائشی رنگوں میں سیسے کی زیادہ سے زیادہ حد 90 پارٹس پر ملین اور ہلدی میں پانچ پارٹس پر ملین مقرر کی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) سرمہ کے لیے بھی قومی معیار متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔

عابد حسن نے کہا کہ حکومتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں سے آرائشی رنگوں میں سیسے کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ سندھ فوڈ اتھارٹی کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں سیسہ ملی ہلدی کی فروخت بھی بڑی حد تک کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کرے تو عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

لیپ پاکستان کے پروگرام منیجر اسد پابانی نے بتایا کہ ان کی تنظیم دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں حکومتوں، محققین، صنعت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کے ریجنل ڈائریکٹر عمران صابر نے کہا کہ غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ یونٹس اور دیگر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کارروائی کے بعد ایسے یونٹس اکثر دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایسے عناصر کی نشاندہی اور عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر احمد علی شیخ نے بتایا کہ جب ہلدی میں لیڈ کرومیٹ کے خلاف مہم شروع کی گئی تو 90 فیصد سے زائد نمونوں میں یہ مضر مادہ موجود تھا، تاہم مسلسل نگرانی، لیبارٹری تجزیوں، تاجروں سے رابطوں اور آگاہی مہم کے نتیجے میں یہ شرح کم ہو کر تقریباً پانچ فیصد رہ گئی ہے۔

ورکشاپ کے اختتام پر صحت اور ماحولیات کے سینئر صحافی ایم وقار بھٹی نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی، غیر محفوظ صنعتی سرگرمیوں، آلودہ صارف اشیا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر تحقیقاتی رپورٹنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ درست اور حقائق پر مبنی صحافت ہی عوامی آگاہی، مؤثر قانون سازی اور بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Exit mobile version